Al-Risala · May 2002 · page

A religion that sanctions violence.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲

والی خبروں کو نشر کرنے کا ایک نظام ہے۔ آپ جب ایک خبر کی تخلیق کریں گے تو سی این این ضرور اس کو لے گا ۔ کیوں کہ اسی پر اس کی انڈسٹری کا انحصار ہے۔ سی این این کا مقصد خبر کورپورٹ کرنا ہے۔ آپ ایک خبر کو وجود میں لائیں گے تو سی این این ضرور اس کو لے کر اس کی رپورٹ کرے گا تا کہ وہ اپنی انڈسٹری کو چلا سکے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ سی این این ایسا نہ کرے تو آپ خود اپنے آپ کو ایسی خبر کی تخلیق سے روکیں ۔ موجودہ قسم کی شکایت کا کوئی فائدہ نہیں۔

ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ میں آپ کا الرسالہ پڑھتا ہوں مگر آپ کی ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔ آپ ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ جہاد سے پہلے تیاری ضروری ہے۔ آپ یہ بتائیے کہ اسلام کے دور اول میں جو غزوۂ بدر ہوا اس کے لئے مسلمانوں نے کیا تیاری کی تھی۔ دشمنوں کے مقابلہ میں یہ غزوہ گویا بلا تیاری کے ہوا۔

میں نے کہا کہ آپ نے برعکس بات کہی۔ غزوۂ بدر تو سپر تیاری کے بعد ہوا تھا۔ آپ اس سلسلہ میں سورہ آل عمران اور سورہ انفال کی متعلق آیتوں کا مطالعہ کیجئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب یہ خبر پہنچی کہ مشرکین کی فوج مدینہ کی طرف بڑھ رہی ہے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مقابلہ کے لئے نکلنے کا ارادہ فرمایا۔ مگر ساز وسامان کی کمی کی بنا پر مسلمانوں کی ایک جماعت راضی نہ تھی۔ حتی کہ قرآن کے مطابق، انہوں نے رسول اللہ سے اس معاملہ میں جدال کیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ موجودہ حالت میں مشرک فوج سے لڑنے کے لئے نکلنا موت کے لئے نکلنا ہے۔ پھر اللہ نے وحی کے ذریعہ فرمایا کہ تم لوگ مقابلہ کے لیے نکلو۔ ہم اس مہم میں تمہاری مدد کے لئے بڑی تعداد میں فرشتے لگاتار بھیجیں گے۔

اس سے معلوم ہوا کہ بدر کی لڑائی معروف خیال کے مطابق، تین سو تیرہ کی تعداد نے نہیں لڑی بلکہ ان کے ساتھ بڑی تعداد میں فرشتوں کا لشکر بھی مدد کے طور پر شامل تھا۔ فرشتوں کی یہی مدد ہے جس نے بدر کی جنگ میں کامیابی کو یقینی بنا دیا۔ موجودہ زمانہ میں جو مسلمان کمتر تیاری کے ذریعہ طاقت ور قوموں سے جنگ چھیڑے ہوئے ہیں ان کے لئے اس قسم کی کوئی خدائی بشارت موجود نہیں، اس لئے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page