Al-Risala · May 2002 · page

A religion that sanctions violence.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲

موجودہ عدم تیاری کی حالت میں ان کے لئے لڑنا بھی جائز نہیں۔

میرا یہ جواب دو اور دو چار کی طرح واضح تھا، مگر مذکورہ مسلم نوجوان نے سننے کے بعد آخر میں کہا کہ دعا کیجئے میرا یہ خلجان رفع ہو جائے۔ میں نے کہا کہ اتنی واضح دلیل سامنے آنے کے بعد آپ کے لئے اعتراف ہے، نہ کہ رفع خلجان کی۔

ڈاکٹر حمید اللہ ندوی (ریڈر شعبہ عربی، بھوپال یونیورسٹی) کا مکان جہاں میں ٹھہرا تھا، وہ صرف ایک مکان نہیں بلکہ وہ ایک پیغام بھی ہے۔ یہ ایک خوبصورت نو تعمیر مکان ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے یہاں ایک پلاٹ خریدا اور کسی صاحب سے اس کا ایک نقشہ بنوایا۔ اس نقشہ کو انہوں نے مشورہ کے لئے مسٹر راجیند رسنگھ کو دکھایا۔ وہ سول انجینئر بھی ہیں اور یہاں کے ایک ممتاز صنعت کار بھی۔ مسٹر راجیند رسنگھ نے کہا کہ کیا یہ آپ کے مکان کا نقشہ ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے کہا کہ ہاں۔ مسٹر راجیند رسنگھ نے کہا کہ پھر آپ کو اس کے لئے سوچنے کی ضرورت نہیں۔ اب یہ میرا کام ہے اور میں ہی اس کو انجام دوں گا۔

مسٹر راجیند رسنگھ نے اس کے بعد نیا بہتر نقشہ بنایا اور پھر اپنے آدمیوں کو تعمیر کے کام پر لگا دیا۔ انتہائی مصروفیت کے باوجود وہ خود اس کی نگرانی کرنے لگے۔ انہوں نے اپنے ماربل کے ساتھ اس کے لئے بھی ماربل منگوایا۔ انہوں نے نہ صرف اپنا پورا ہنر مکان کی تعمیر میں لگایا بلکہ اپنا پیسہ بھی اس میں خرچ کیا۔ کسی بھی قسم کے معاوضہ کے بغیر انہوں نے یہ کام اس طرح کیا جیسے کہ وہ ان کا اپنا کام ہو۔ یہاں تک کہ انہوں نے چھوٹے سے پلاٹ میں خوبصورت دو منزلہ مکان تیار کر دیا۔ یہ سارا کام انہوں نے اس قدر بے لوثی کے ساتھ کیا کہ لفظی طور پر بھی انہوں نے کبھی اس کا اظہار کرنا پسند نہیں کیا۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی اگر کسی معیاری مسلم ملک میں ہوتے اور کوئی مسلم ماہر تعمیر بلا معاوضہ ان کی مدد کرنا چاہتا تو اس سے زیادہ وہ اور کیا کر سکتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان انسانوں کا ایک ملک تھا مگر کچھ نا اہل لیڈروں نے اس کو غلط طور پر مسلم دشمنوں کا ملک سمجھ لیا۔ یہی وہ غلطی ہے جس نے ان بھیا نک نتائج کی صورت اختیار کی جس کی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page