Al-Risala · May 2002 · page 36

A religion that sanctions violence.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲، صفحہ ۳۶

شکایت مسلمان ۱۱۹۷ سے لے کر اب تک کر رہے ہیں۔

بھوپال کی ایک مسجد میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فجر کی نماز ادا کی۔ دوسری رکعت کے آخر میں امام صاحب نے قنوت نازلہ پڑھی۔ اس میں’’کفار‘‘کے لئے بد دعا تھی۔ وہ بد دعا کے کلمات کہتے ہوئے یہاں پہنچے:اللہم دمر دیارہم، اللهم أهلكهم كما أهلكت عاداً وثموداً۔ یہ عربی الفاظ سن کر میں تھر ا اٹھا۔ میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اس لیے کہ اس قسم کی دعا کرنے کے نہایت ہولناک تقاضے ہیں۔ اس قسم کی دعا کا وقت وہ ہے جب کہ اہل ایمان اتمام حجت کے بعد کفارومشرکین کی بستیوں سے ہجرت کر کے باہر چلے گئے ہوں۔ میں نے سوچا کہ مسلمانوں کے اصاغروا کا بر لمبی مدت سے اپنی مسجدوں میں اس قسم کی بد دعائیں کر رہے ہیں۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ ان کی یہ بد دعا قبول نہیں ہوئی۔ اگر یہ بد دعا قبول ہو جاتی تو تد میر اور ہلاک کا عذاب آنے کی صورت میں خود بد دعا کرنے والے مسلمان بھی ہلاکت کا نشانہ بن جاتے۔ کیوں کہ وہ خود بھی انہی بستیوں میں مخلوط طور پر آباد ہیں۔

ایک صاحب نے کہا کہ میں نے الرساله والوں اور غیر الرسالہ والوں کے درمیان ایک عجیب فرق پایا ہے۔ الرسالہ کے قارئین دوسروں کے بارے میں ہمیشہ مثبت باتیں کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ الرسالہ کے قاری نہیں ہیں وہ دوسروں کے بارے میں ہمیشہ منفی باتیں کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔

میں نے کہا کہ اس معاملہ کو آپ ایک مثال سے سمجھیے۔ ایک لڑکی جب اپنے میکے میں ہو جہاں صرف اس کا باپ، اس کی ماں، اس کا بھائی اور اس کی بہن ہو، ایسی حالت میں اگر آپ لڑکی سے گھر کی کوئی برائی کریں تو وہ فوراً اس کا دفاع کرے گی۔ وہ کہے گی کہ ہمارے گھر میں سب ٹھیک ہے، یہاں شکایت کی کوئی بات نہیں۔ مگر یہی لڑکی جب شادی ہونے کے بعد اپنے سسرال میں جاتی ہے اور وہاں ساس اور بہو کا جھگڑا پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس لڑکی سے سسرال کی کوئی شکایت کیجیے تو فوراً وہ اس کو درست مان لے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page