Al-Risala · May 2002 · page 37

Fighting terrorism, Israel style.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲، صفحہ ۳۷

میں نے کہا کہ اس مثال سے آپ دونوں کے درمیان فرق کے معاملہ کو سمجھ سکتے ہیں۔ الرسالہ کے علاوہ مسلمانوں کے جو پرچے نکلتے ہیں، خواہ وہ ہندوستان کے ہوں یا ہندوستان کے باہر کے، خواہ وہ اردو کے پرچے ہوں یا اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کے مسلم پرچے، تمام پرچوں کا یہ حال ہے کہ وہ غیر مسلم قوموں کی شکایت سے بھرے رہتے ہیں۔ جو عورت یا مرد ان پرچوں کو پڑھتے ہیں ان کا ذہن وہی بنتا ہے جو ایک خاتون کا ذہن سسرال کے ماحول میں بنتا ہے۔ الرسالہ کا معاملہ اللہ کے فضل سے اس سے مختلف ہے۔ الرسالہ اپنے قارئین میں مثبت سوچ پیدا کرتا ہے۔ وہ واقعات میں نفرت کے بجائے محبت کے پہلو ابھارتا ہے۔ الرسالہ کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ لوگ اپنی قوم اور غیر قوم کی نظر سے دیکھنے کے بجائے تمام لوگوں کو انسان کی نظر سے دیکھیں۔ اس بنا پر الرسالہ کے قاری کے اندر وہ مزاج بنتا ہے جو ایک خاتون کے اندر اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے میکے میں اپنے خونی رشتوں کے درمیان ہو۔

بھوپال سے انگریزی زبان میں ایک ماہانہ میگزین نکلتا ہے۔ اس کا نام ایوریسیا ٹائمس (Eurasia Times) ہے۔ ایک صاحب نے اس کا شمارہ (نومبر ٢٠٠١) دیا۔ اس شمارہ میں ایک مضمون کا عنوان یہ تھا__ دہشت گردی کا مقابلہ اسرائیل کے انداز میں:

Fighting terrorism, Israel style.

اس میں بتایا گیا تھا کہ دہشت گردی سے مقابلہ کا ایک طریقہ وہ ہے جو اسرائیل نے اختیار کیا ہے، یعنی دہشت گردی کے جواب میں دہشت گردی۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ آپ ایک مضمون لکھئے جس کا عنوان ہو__ دہشت گردی کا مقابلہ اسلام کے انداز میں: Fighting terrorism, Islam style. آپ اس مضمون میں بتائیے کہ اسلام کا طریقہ دہشت گردی کے بم کو ڈیفیوز کرنے کا ہے، نہ کہ بم کے اوپر بم مارنے کا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں یہی حکیمانہ طریقہ اختیار فرمایا۔ بھوپال کے قیام کے دوران وہاں تقریباً دس پروگرام ہوئے۔ ایک پروگرام میں میں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page