Fighting terrorism, Israel style.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲، صفحہ ۳۸
خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام پالیسی یہ تھی کہ جب دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو تو آپ کا طریقہ اختیار آیسر (easier option) کا ہوتا تھا، نہ کہ اختیار أعسر (harder option) کا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان جہاں جہاں جہاد کے نام سے متشددانہ لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں، ہر جگہ ان کے لیے پرامن طریقہ کار کا انتخاب ممکن تھا۔ مگر انہوں نے ہر جگہ پر تشدد طریقہ کار کا انتخاب کیا جو سراسر سنت نبوی کے خلاف تھا۔ اسی لیے ان کے حصہ میں تباہی کے سوا اور کچھ نہ آیا۔
میں نے کہا کہ بیسویں صدی میں گاندھی اور نیلسن منڈیلا نے اسلام کا طریقہ (اختیار آیسر) اپنا کر شاندار کامیابی حاصل کی۔ عین اُسی وقت اس کے برعکس طور پر مسلمانوں نے یہ کیا کہ اسلام کے طریقہ کے خلاف (اختیار أعسر) کو اپنا کر اپنے آپ کو تباہی میں ڈال دیا۔
بھوپال کے دوران قیام میں جو پروگرام ہوئے وہ برابر میڈیا میں آتے رہے۔ اخبارات میں بھی اور ٹیلی ویژن میں بھی۔ مثلاً دینک نئی دنیا (۶ نومبر ۲۰۰۱) میں ایک تقریر کی رپورٹنگ چھپی۔ اس کا عنوان یہ تھا ــــــــ سچائی کی تلاش کے لیے کوشش کرتے رہنا ہی جہاد ہے: سچائی کی تلاش کے لیے کوشش کرتے رہنا ہی جہاد ہے ۔
اسی طرح دینک بھاسکر کے شمارہ (۴ نومبر ۲۰۰۱) میں ایک پروگرام کی رپورٹ چھپی۔ اس کا عنوان یہ تھا ــــــــ اسلام لڑائی کا مذہب نہیں:
اسلام لڑائی کا مذہب نہیں ۔
بھوپال میں میں ۳ نومبر کو پہنچا تھا۔ ۷ نومبر کو وہاں سے واپسی ہوئی۔ اس دوران بار بار شہر کے مختلف حصوں میں جانے کا موقع ملا۔ ان مشاہدات اور تجربات سے اندازہ ہوا کہ نوابی دور کے مقابلہ میں آج یہاں کے مسلمان ہر اعتبار سے کئی گنا زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ اس ترقی کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ یہاں کے مسلمانوں کے سینے میں شکر کا چشمہ رواں ہو، مگر اپنے تجربہ کے مطابق، میں نے یہاں کے کسی مسلمان کو شکر خداوندی کے جذبہ سے سرشار نہیں پایا۔
ریاست کے دور میں نواب کی تعمیر کی ہوئی تاج المساجد کی قدیم تصویر آج بھی موجود ہے۔ اس