Al-Risala · May 2002 · page 39

Fighting terrorism, Israel style.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲، صفحہ ۳۹

تصویر میں یہ مسجد ایک کھنڈر کی مانند نظر آتی ہے مگر آج یہ تاج المساجد ایک عظیم کامپلیکس کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ہر مسجد اور ہر مدرسہ اور ہر مسلم ادارہ پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ آج یہاں کے مسلمانوں کے پاس اتنی زیادہ کاریں ہیں جن کا تصور بھی ۱۹۴۷ میں نہیں کیا جاسکتا تھا۔ سر وسوں اور تجارتوں میں مسلمان پہلے کے مقابلہ میں نمایاں حد تک زیادہ جگہ حاصل کر چکے ہیں۔ ایک مسلم اجتماع میں میں نے کہا کہ کیا آپ میں سے کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ آپ کا خاندان ۱۹۴۷ میں جہاں تھا اب وہ اس سے پیچھے چلا گیا ہے۔ مگر کوئی ایک شخص بھی یہ کہنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ میرا احساس ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ساری دنیا میں جو چیز مفقود ہے وہ شکر کا جذبہ ہے۔ ہر آدمی کا سینہ فرضی شکایتوں سے بھرا ہوا ہے۔ کسی مسلمان کے سینے میں شکر کا دریا بہتا ہوا نظر نہیں آتا، جب کہ شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔

۷ نومبر کو جب میں واپسی کے لئے روانہ ہوا تو میری قیام گاہ (مکان ڈاکٹر حمید اللہ ندوی) پر کچھ خواتین اکٹھا ہو گئیں۔ ان سے خطاب کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ سب کو میری ایک نصیحت ہے۔ وہ یہ کہ آپ لوگ بے شکایت زندگی گزاریں ۔ میں نے کہا کہ زندگی نام ہے، شکایتوں کے درمیان شکایت سے خالی ہو کر رہنا۔

میں نے کہا کہ موجودہ دنیا کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں بار بار ایک کو دوسرے سے شکایتیں پیدا ہوں ۔ شکایت خدا کے تخلیقی نقشہ کا ایک حصہ ہے۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ آپ کا امتحان لیا جائے ۔ جب بھی آپ کو کسی سے شکایت پیدا ہو تو اُس کو انسان سے نہ جوڑیئے بلکہ یہ سمجھ لیجئے کہ وہ امتحان کا ایک پرچہ ہے جو براہ راست اللہ کی طرف سے آپ کے پاس آیا ہے۔ اس جانچ میں کامیاب ہونے کا واحد راز یہ ہے کہ آپ شکایت کو بے شکایت میں تبدیل کر دیں۔ شکایت کو شکایت کے طور پر لینا امتحان میں ناکام ہونے کا ثبوت ہے اور شکایت کو بے شکایت بنا دینا امتحان میں کامیابی کا ثبوت۔ واپسی کے وقت میں بھوپال ائیر پورٹ پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ائیر پورٹ کے ایک کارکن مسٹر عبد الغفور خاں (548121 Tel) میرے پاس آئے۔ انہوں نے کہا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page