Al-Risala · May 2002 · page 40

I am a bearer cheque for you.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲، صفحہ ۴۰

کہ آج کے اخبار میں آپ کے بھوپال کے پروگرام کی رپورٹ چھپی ہے۔ میں نے اس تصویر رپورٹ کو پڑھا ہے۔ اس سے میں نے آپ کو پہچانا۔ اس کے بعد انہوں نے بھوپال سے چھپنے والے اُس ہندی اخبار کی مذکورہ کاپی دی اور کہا کہ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیے ۔ میں نے کہا کہ آپ کا شکریہ ، کوئی ضرورت ہوئی تو انشاء اللہ آپ کو زحمت دی جائے گی ۔

میں اپنے ساتھیوں سے کچھ دینی باتیں کر رہا تھا۔ ایک سردار جی ہمارے پاس آئے اور کھڑے ہو کر میری باتیں سننے لگے۔ انہوں نے کہا کہ آپ مجھ کو خدا کے ایک سچے بندے دکھائی دیتے ہیں ۔ میں آپ کی باتوں سے بہت پر بھاو ت ہوا ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا کارڈ دیا۔ وہ بھوپال میں رہتے ہیں۔ ان کا نام مسٹر ترن سنگھ نام دھاری (465511-0755 .Tel) ہے۔ انہوں نے اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا:

I am a bearer cheque for you.

سات نومبر ۲۰۰۱ کو بھوپال سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ شہر سے روانہ ہو کر ایر پورٹ پہنچا۔ یہاں بہت سے لوگ اکٹھا ہو گئے۔ ایک اجتماع کی صورت بن گئی۔ جہاز کسی قدر لیٹ تھا۔ چنانچہ یہ غیر رسمی اجتماع دیر تک جاری رہا۔

یہاں ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ دنیا میں ہر چیز جو آدمی کو ملی ہوئی ہے وہ اس کے لئے ایک پرچہ امتحان ہے۔ یہی جاب (job) کا معاملہ بھی ہے۔ جاب بھی حقیقتہً ذریعہ رزق نہیں ہے بلکہ وہ ایک پرچہ امتحان ہے۔ میں نے کہا کہ اگر کوئی آدمی آپ کا جاب چھینے تو وہ صرف آپ کا ایک ٹیسٹ پیپر چھینے گا، وہ آپ کا فیوچر آپ سے چھین نہیں سکتا۔

بھوپال سے انڈین ایرلائنس کی فلائٹ کے ذریعہ دہلی واپس آیا۔ دوران پرواز ایک بار سنائی دیا کہ ایک مسافر خاتون پریشانی کے عالم میں چیخ رہی ہے۔ وہ انگریزی میں بار بار کہہ رہی تھی : O God, any doctor, help me, please. یہ سات نومبر ۲۰۰۱ء کا واقعہ ہے۔ قصہ یہ ہے کہ مذکورہ خاتون کا چھوٹا بچہ دوران پرواز اچانک بے ہوش ہو گیا۔ یہ دیکھ کر مذکورہ خاتون چلانے لگی۔ دوران پرواز جہاز کے اندر کچھ نہیں ہو سکتا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page