Al-Risala · May 2002 · page 41

I am a bearer cheque for you.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲، صفحہ ۴۱

تھا۔ مگ جہاز کے کارکنوں نے خاتون سے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں، ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی آپ کے لیے طبی انتظام کر دیا جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے دورانِ پرواز ہی ٹیلی فون کے ذریعہ ایئرپورٹ پر خبر کر دی۔ جہاز جب دلی ایئرپورٹ پر اترا تو وہاں پہلے ہی سے ایک کار کھڑی ہوئی تھی۔ جہاز کے رُکتے ہی فوراً مذکورہ خاتون اور اُس کے بچہ کو اتار کر گاڑی میں بٹھایا گیا اور اس کو تیزی سے قریب کے اسپتال میں پہنچا دیا گیا— یہ اُس چیز کا کرشمہ تھا جس کو جدید کمیونیکیشن کہا جاتا ہے۔ سفر سے واپسی کے بعد بھوپال سے ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کا خط مورخہ ۲۹ نومبر ۲۰۰۱ء ملا۔ اس کا کچھ حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

اجتماع کے بہت خوشگوار نتائج پیدا ہوئے ان میں سے کچھ کو یہاں مختصراً لکھتا ہوں: جب رمضان آیا تو ہمارے نئے نو جوان ساتھی عابد خان، زاہد خان صاحبان جو ایک ٹی وی چینل سے جڑے ہوئے ہیں، ان لوگوں نے رمضان میں روزانہ میری تفسیر ریکارڈ کروا کر نشر کرنا شروع کر دیا۔ یہ بات پہلے سے ذہن میں تھی مگر مجھے زیادہ یقین نہیں تھا۔ آپ کی تشریف آوری سے کچھ دن پہلے اندور کے ایک جلسہ میں میری تقریر تھی۔ اتفاق سے اس میں ٹی وی چینل کے مسلمان مالک بھی شریک تھے تب بات اور زیادہ پختہ ہوگئی۔ یہ سلسلہ خدا نے بہت کامیاب کیا۔

تاثرات کا عالم یہ ہے کہ ہمارے مشرف حسین صاحب جو تاثر دینے میں بہت غیر جانبدار ہیں، انہوں نے کہا کہ اس سفر میں ایسا ہوا کہ مولانا صاحب نے گویا سردارانِ قریش کو دعوت پیش کر دی۔ الطاف صدیقی صاحب نے کہا کہ ہر سیکنڈ اور ہر منٹ فائدہ سے بھر پور تھا اور ہر طبقہ کے خواص نے اس بار مولانا سے جتنا فائدہ اٹھایا اتنا کبھی نہیں اٹھایا۔ ڈاکٹر گوتم نے کہا کہ مولانا نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ سارنگ جی کا آپ کے پروگرام کے بارے میں کہنا ہے کہ شہر کے ہر ورگ کا ر کریم اور آئیلیچول طبقہ بھوپال میں میرے سامنے کبھی اس طرح اکٹھا نہیں ہوا نہ اتنا زیادہ پربھاوت ہوا۔ محمد حسین صاحب شیلٹر (شاہجہاں باد) نے تو آپ کے سامنے ہی اپنا تأثر بیان کر دیا تھا کہ جن مخالفین کو ہم نے کھانے پر بلایا تھا وہ آئے ہی نہیں (جاء الحق و زھق الباطلکی سی کیفیت ہوگئی)۔ اشفاق مشہدی ندوی جو کہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page