I am a bearer cheque for you.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲، صفحہ ۴۲
راشٹریہ سہارا اخبار کے نمائندہ ہیں وہ میرے گھر پر مبارکباد دینے آئے۔ انہوں نے کہا کہ اب میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ ’’مولانا‘‘ دعوت کا اسی طرح ماحول بناتے ہیں جس طرح کسان پہلے زمین پر محنت کرتا ہے پھر وہ بیج ڈالتا ہے۔ پھر اس حکمت کے ساتھ پوری فصل تیار ہو جاتی ہے۔ راجیند رسنگھ صاحب نے کہا کہ اس بار میںمولانا کا پورے طور پر مرید ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ میری رہائش گاہ پر جتنے لوگ آئے تھے سب متاثر ہوئے خاص طور پر کمشنر صاحب نے کہا کہ ایسے ہوتے ہیں صحیح سوچ بنانے والے۔ راجیند رسنگھ صاحب وہ باتیں بھی دہراتے ہیں جو آپ نے ان کے گھر کی خواتین سے کہی تھیں ۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ بھی اسی اصلاحی انداز کو اختیار کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی جملہ میں آپ نے ایسی بات کہہ دی جو خواتین کو بہت زیادہ پر بھاو ت کرنے والی تھی۔ پریم نرائن گپتا جی نے کہا کہ مولانا نے بھوپال کو ایک پوتر ماحول میں نہلا دیا۔ جناب شکیل رضا صاحب کا تاثر بھی آپ کے سامنے ہے جنہوں نے دعوت کی تھی۔ عمران صاحب اس بار اور زیادہ متاثر ہوئے۔ یہ پروگرام ہم نے بہت زیادہ اندیشوں اور خطرات کے ماحول میں کیا تھا۔ ہم نے آپ کی آمد اور آپ کے پروگرام کے لئے کبھی اتنے اندیشے اور خطرے محسوس نہیں کئے جتنا کہ اس بار۔ واقعہ یہ ہے کہ مخالفین نے طے کر لیا تھا کہ وہ ضرور کوئی بڑی گڑبڑی پیدا کریں گے، مگر خدا نے وہ قدرت دکھائی کہ ألقى في قلوبهم الرعب کا معاملہ ہو گیا۔
اس میں ایک اور بڑا اہم فائدہ جو ہوا وہ بھی ذکر کروں گا۔ زینتھ ایجوکیشن اینڈ کیریئر ویلفیئر سوسائٹی کے لڑکے جیسا کہ پہلے میں نے ذکر کیا تھا، بھوپال کے نو جوانوں کے ایک بڑے طبقہ پر اثر رکھتے ہیں، وہ دوسال پہلے تک پر تشدد طریقہ کے قائل تھے۔ وہ میرے پاس اس نیت سے آئے کہ علماء ان کا ساتھ کیوں نہیں دیتے اور نہ ہی انہیں مطمئن کر پاتے ہیں۔ قریب چھ ماہ کی محنت کے بعد اللہ نے ان کو بدل دیا تھا۔ وہ مثبت طریقہ پر کام کرنے لگے۔ اور پھر پہلے میرے نام کے ساتھ میرے مضامین چھاپنے لگے ۔ جو میگزین (ہندی) وہ نکالتے ہیں اس میں صلاح کار کے طور پر میرا نام دے دیا اور آپ کے مضمون صرف ماخوذ لکھ کر (میری اجازت سے) چھاپنے کی جرات کر لی۔ اب آپ کے دورہ کے