Al-Risala · May 2002 · page 43

I am a bearer cheque for you.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲، صفحہ ۴۳

بعد کیا ہوا، اب وہ ہوا جس کی امید نہیں کر سکتا تھا۔ وہ یہ کہ دعوت نامے میں انہوں نے دعاۃ کے نام کے ساتھ سوسائٹی کے نام میں اپنا نام شامل کروا دیا۔ آپ کی مخالفت پروگرام سے پہلے ۲۸ اکتوبر کو صوفیہ مسجد کے علاقہ میں تالاب کے کنارے محلہ کھانوں گا وسا میں ہوئی تب وہ اندور میں تھے۔ انہوں نے اندور سے ہی مجھے مطلع کیا کہ اس طرح کی مخالفانہ میٹنگ ہو رہی ہے۔ پھر آپ کی آمد کے ایک دن پہلے محلہ بدھوارہ میں میٹنگ ہوئی۔ وہ لوگ براہ راست سیدھے میٹنگ میں پہنچ گئے اور کہا کہ ہم ہیں مولا نا حمید اللہ اور مولا نا وحید الدین خاں کے ساتھ۔ سوچ لو کہ کیا تم کو گڑ بڑ کرنا ہے۔ ادھر یا اُدھر فیصلہ ہو جائے گا۔ وائس چانسلر مسٹر ہرش وردھن تیواری کی بات تو آپ نے سن لی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو کتا بیں آپ نے ان کو دیں اسے انہوں نے تین گھنٹے تک پڑھا اور اسلام کو سمجھ لیا۔ عابد خاں اور زاہد خاں صاحبان نے بھی اس اجتماع سے بہت اچھا اثر قبول کیا۔ عورتوں کا جلسہ بہت زیادہ کامیاب رہا۔ یہ جلسہ Women Islamic Studies Circle کی طرف سے تھا جس کی صدر میری اہلیہ اور ذمہ دار تینوں بیٹیاں اور خاص طور پر سیما، سعدیہ، صائمہ اور ان کی کچھ سہیلیاں ہیں۔ ایک رکن سہیلی کا نام بھی سیما ہے۔

خواتین کے جلسہ میں میرے مکان کے اوپر نیچے دونوں ہال اور سارے کمرے بھرے ہوئے تھے۔ لوگوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ عورتوں نے کامل خاموشی کے ساتھ پوری تقریر سنی۔ زیادہ تر عورتوں کا تاثر یہ تھا کہ دین کی باتیں اس طرح فطری انداز میں کوئی نہیں سمجھاتا۔ مولانا اختر قاسمی صاحب کی خوش دامن صاحبہ اپنے گھر پر جا کر روئیں کہ یہ باتیں ہیں عمل کرنے کی۔ اور آپ نے دیکھا کہ جلسے کے بعد سب عورتیں کتنی خاموشی کے ساتھ بغیر شور کے کس طرح باوقار طریقے سے گئیں ۔ آپ اندر کے کمرہ میں جہاں تشریف رکھتے تھے آپ نے کوئی شور کی آواز نہیں سنی۔ یہ سب اللہ کا فضل و کرم اور احسان ہے۔ (حمید اللہ ندوی)

ایک خط

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page