Al-Risala · May 2002 · page 44

I am a bearer cheque for you.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲، صفحہ ۴۴

برادر محترم شمشاد محمد خاں صاحب السلام علیکم ورحمة اللہ محترمہ مریم صاحبہ نے اپنا خط مورخہ ۱۶ جنوری ۲۰۰۲ آپ کے نام لکھا تھا جس کو آپ نے بذریعہ فیکس میرے پاس بھیج دیا ہے۔ یہ انگریزی خط انہوں نے میرے کچھ مضامین کے خلاف سخت ردعمل کے طور پر لکھا ہے۔ مگر ان کا یہ منفی ردعمل تمام تر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ ان کا یہ پورا خط اس قدیم عربی مقولہ کے مصداق ہے کہ: الناس أعداء ما جهلوا (لوگ اس چیز کے دشمن ہوجاتے ہیں جس سے وہ بے خبر ہوں)۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موصوفہ نے میرے صرف کچھ مضامین کو سرسری طور پر پڑھا ہے۔ اگر وہ میری تمام تحریروں کو پڑھتیں تو ہرگز وہ ایسا بے بنیاد خط نہ لکھتیں۔ ۱۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان مختلف مقامات پر جہاد کے نام سے جو مسلح جنگ کر رہے ہیں، اس کی بابت راقم الحروف کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اسلامی جہاد نہیں۔ جہاد بلاشبہ اسلام کی ایک تعلیم ہے مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا جہاد اسلامی جہاد نہیں۔ اس پر وہ اپنے خط میں فرماتی ہیں کہ یہ نظریہ قرآن اور سنت سے مکمل انکار کے ہم معنی ہے۔ اپنے نقطۂ نظر کے حق میں انہوں نے قرآن کی ایک آیت کو بطور حوالہ پیش کیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: کیا تم نے بنی اسرائیل کے سرداروں کو نہیں دیکھا موسیٰ کے بعد، جب کہ انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں لڑیں۔ نبی نے جواب دیا: ایسا نہ ہو کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے تب تم نہ لڑو۔ انہوں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں۔ حالاں کہ ہم کو اپنے گھروں سے نکالا گیا ہے اور اپنے بچوں سے جدا کیا گیا ہے۔ پھر جب ان کو لڑائی کا حکم ہوا تو تھوڑے لوگوں کے سوا سب پھر گئے۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ (البقرہ ۲۴۶)

قرآن کی اس آیت سے عین وہی بات ثابت ہوتی ہے جس کا میں اظہار کرتا رہا ہوں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قتال یا مسلح جہاد کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک باضابطہ حاکم کے تحت ہو۔ غیر حکومتی افراد یا تنظیموں کا آزادانہ طور پر مسلح جہاد کرنا جائز نہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان مختلف

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page