کام کا صحیح طریقہ
الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۱۴
بڑے پیمانہ پر چلارہے ہیں۔ اور پُر فخر طور پر وہاں اپنے کارنامے بیان کرتے ہیں۔ الاخوان المسلمون مصر میں کیوں ناکام رہے اور امریکہ میں خود اپنے دعویٰ کے مطابق، وہ کیوں کامیاب ہیں۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ انہوں نے مصر میں پُرتشد دنقشہ کار کے مطابق کام کرنا چاہا جو وہاں اُن کے لیے قابل حصول ہی نہ تھا۔ اس کے برعکس امریکہ میں وہ پُر امن طریق کار کے مطابق کام کر رہے ہیں جو وہاں کے حالات میں اُن کے لیے پوری طرح قابل حصول ہے۔ تاہم الاخوان المسلمون کو نہ مصر میں اُن کے کام پر کوئی کریڈٹ دیا جا سکتا ہے اور نہ امریکہ میں اُن کے کام پر۔ مصر میں اُن کا کام صرف سیاسی نادانی کے خانہ میں لکھا جائے گا۔ اور امریکہ میں وہ اپنے کام پر دوہرا معیار (ڈبل اسٹینڈرڈ) اختیار کرنے والے قرار پائیں گے، الاّ یہ کہ وہ کھلے لفظوں میں یہ اعلان کریں کہ مصر میں اُن کی پالیسی سراسر غلطی اور نادانی کی پالیسی تھی۔ اعتراف کے بعد غلطی ایک نیکی بن جاتی ہے اور اعتراف کے بغیر غلطی صرف غلطی رہتی ہے۔
جماعت اسلامی کا معاملہ بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ جماعت اسلامی اور اُس کے بانی نے پاکستان میں زبردست سیاسی ہنگامہ برپا کیا۔ اُن کا کہنا یہ تھا کہ پاکستان میں وہاں کے سیکولر حکمرانوں نے سیکولر نظام قائم کر رکھا ہے۔ جب تک اس سیکولر نظام کو توڑا نہ جائے یہاں کوئی قابلِ ذکر اسلامی کام کرنا ممکن نہیں۔ جماعت اسلامی اور اُس کے بانی کی ٹکراؤ کی اس سیاست کا کوئی مثبت نتیجہ پاکستان کو نہیں ملا۔ بلکہ برعکس طور پر پاکستان ایک تباہ شدہ ملک بن کر رہ گیا۔
اب اسی جماعت اسلامی کی فکر کو ماننے والے لوگ نہایت اطمینان کے ساتھ انڈیا کے سیکولر نظام کے تحت کام کر رہے ہیں۔ وہ پُر فخر طور پر یہاں اپنے اسلامی کارنامے بیان کرتے ہیں۔ مگر جماعت اسلامی کا معاملہ بھی وہی ہے جو الاخوان المسلمون کا معاملہ ہے۔ جماعت اسلامی کے لوگوں نے پاکستان میں جو کچھ کیا اُس پر انہیں صرف سیاسی نادانی کا کریڈٹ دیا جائے گا۔ اسی طرح انڈیا کی جماعت اسلامی کے لوگ انڈیا میں اپنے اعلان کے مطابق، جو کارنامے انجام دے رہے ہیں اُس پر بھی وہ کوئی کریڈٹ نہیں پا سکتے۔ الاّ یہ کہ وہ کھلے طور پر یہ اعلان کریں کہ اُن کے بانی کا نظریہ سیکولرزم یا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues