اصل سبب جہالت
الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۲۹
طب کی بنیاد جراثیم (بیکٹیریا) کے اصول پر رکھی گئی ہے۔ اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ خارجی جراثیم انسان کے جسم میں داخل ہو کر بیماری پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے مغربی طب میں زہریلی دواؤں کے ذریعہ ان جراثیم کو ہلاک کیا جاتا ہے تا کہ انسان کو مرض سے بچایا جاسکے۔ مگر یہ طریقہ دودھاری تلوار کی مانند ہے۔ وہ اگر مفروضہ جراثیم کو ہلاک کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ خود انسان کے لیے نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ نیز تجربہ بتاتا ہے کہ جب اس قسم کی ایک دوا کو کچھ عرصہ تک استعمال کیا جائے تو جراثیم کے اندر مزاحمت (resistance) پیدا ہو جاتی ہے۔ اُس کے بعد ضرورت ہوتی ہے کہ ان جراثیم کو ہلاک کرنے کے لیے زیادہ شدید دوا استعمال کی جائے۔ اس طرح جراثیم کشی کا عمل آخر کار انسان کشی کے ہم معنی بن جاتا ہے۔
قدیم یونانی طب جس کو مسلمانوں نے مزید ترقی دے کر ایک مکمل فن بنا دیا تھا اُس کا اصول علاج اس سے بالکل مختلف ہے۔ یہ طبیعت مدبرہ بدن کے اصول پر قائم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی جسم میں فطری طور پر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ مرض کا مقابلہ کر کے اُس کو دفع کرتی رہے۔ جدید حیاتیات میں اس پر کافی ریسرچ ہوئی ہے۔ اس کو اصطلاحی طور پر مقاومت (immunity) کہا جاتا ہے:
The ability of an organism to resist infection,.by means of the presence of circulating antibodies and white blood cells. (Concise Oxford dictionary)
اس موضوع پر کافی کتابیں چھپ چکی ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میںامیونٹی (immunity) کے عنوان سے تفصیلی مقالہ شامل ہے۔ اس سلسلہ میں ایک مستند کتاب کا نام یہ ہے: Genitics of the Immune Response, 1968. مغربی طب جراثیم کشی کے اصول پر قائم ہے جو خود ایک بیماری ہے۔ اس کے مقابلہ میں مسلم طب یا قدیم طب کا اصول یہ ہے کہ جسم کے تدبیری نظام کو تقویت دی جائے۔ اور اُس کو متحرک کر کے فطری انداز میں مرض کا علاج کیا جائے۔ بعض ہنگامی حالات میں استثنائی طور پر بعض دوسرے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues