Al-Risala · June 2002 · page 30

نئی دہلی، ۵ ؍اپریل ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۳۰

طریقوں، مثلاً آپریشن کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ مگر عام حالات میں فطرت کا نظام ہی حفظانِ صحت کے لیے کافی ہے۔ حیوانات کے اندر یہی نظامِ حیوانات کی صحت کا ضامن بنا رہتا ہے۔ میں نے الجمعیۃ ویکلی میں لکھا تھا کہ حکیم اجمل خاں (وفات ۱۹۳۰) جو طب میں اجتہاد کا درجہ رکھتے تھے، انہوں نے طبِ قدیم کی اس امتیازی اہمیت کو جان لیا تھا۔ وہ دہلی میں ایک طبی یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے تھے جہاں ریسرچ کے جدید طریقوں کو استعمال کر کے مسلم طب کو زمانہ حال کے مطابق ترقی دی جائے۔ اس کے لیے انہوں نے قرول باغ میں ایک وسیع زمین بھی حاصل کر لی تھی ۔ مگر اُس زمانہ میں کچھ مسلم لیڈروں نے جو منفی سیاست چلا رکھی تھی، وہ بدقسمتی سے اُس کا شکار ہو گئے ۔ اُن کی زندگی کے آخری نہایت قیمتی بارہ سال اس بے فائدہ سیاست میں ضائع ہو گئے۔ طب کے احیاءِ جدید کا خواب پورا نہ ہو سکا اور اُس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ حکیم اجمل خاں جیسا مجتہدانہ صلاحیت رکھنے والا طبیب دوبارہ اس فن کے لئے حاصل نہیں ہوا۔

فاروقی منجن کے تجربہ نے مجھے یہ باتیں یاد دلا دیں۔ فاروقی منجن مذکورہ طبی اُصول پر بنایا گیا ہے۔ اور میرے تجربہ کے مطابق ، وہ مغربی ٹوتھ پیسٹ سے زیادہ مفید ہے۔ آج مغربی طب کو غلبہ حاصل ہے اور مسلم طب بظاہر مغلوب ہے۔ لیکن اگر مسلم طب کے مذکورہ امکان کو جدید طرز پر زندہ کیا جائے تو صورتِ حال برعکس ہو جائے گی۔ زندہ طلسمات کے بارے میں بھی میرا تجربہ یہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں حکیم عبدالحمید دہلوی (وفات ۱۹۹۹) نے اس سلسلہ میں قابلِ قدر خدمت انجام دی ہے۔ اُن کے بھائی حکیم محمد سعید دہلوی جو ملک کی تقسیم کے بعد کراچی میں آباد ہو گئے تھے، وہ مسلم طب کے احیاءِ جدید کے لیے زیادہ بڑے پیمانہ پر یہی کوشش انجام دے رہے تھے، مگر جیسا کہ معلوم ہے، کراچی میں ۱۹۹۸ء میں اُن کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ ہمارے لیڈروں نے جو پاکستان اسلام کے قلعہ کے طور پر بنایا تھا، وہ عملاً اس کے برعکس ثابت ہوا۔

نئی دہلی، ۵ ؍اپریل ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues

Printed page