Al-Risala · June 2002 · page 31

نئی دہلی، ۵ ؍اپریل ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۳۱

ایک خط

برادر محترم مولا نا محمد عمر عابدین قاسمی السلام علیکم ورحمة الله آپ کا مقالہ بعنوان ’’ہندوستان میں دعوتِ اسلام۔ تاریخ، مواقع اور امکانات‘‘ پڑھا۔ یہ ایک جامع تحریر ہے۔ آپ نے کامیابی کے ساتھ ہندوستان میں دعوت کے مختلف پہلوؤں کو واضح کیا ہے، جزاکم اللہ خیر الجزاء۔

اسلام میں دعوت کی اہمیت میرے مطالعہ کا خاص موضوع رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دور اوّل میں ۶ ھ میں صلح حدیبیہ کا جو واقعہ پیش آیا، اس نے ہمیشہ کے لئے اسلامی دعوت کا رخ متعین کر دیا۔ صلح حدیبیہ کا پیغام ایک لفظ میں یہ تھا کہ صلح کا ماحول قائم کرو اور اسلام کی اشاعت اپنے آپ ہونے لگے گی۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف صلح حدیبیہ کے بعد اترنے والی سورت میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: انا فتحنا لك فتحا مبینا (الفتح ۱)۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ فریق ثانی کے ساتھ صلح کرنا اسلام کے لیے فتح مبین کا ذریعہ ہے۔ مصالحانہ رویہ اختیار کرنا اسلام کے لیے پرامن فاتحانہ اقدام کا راستہ کھولتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس اعتبار سے ہندوستان میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان معتدل تعلقات قائم کئے جائیں۔ یک طرفہ اعراض کے ذریعہ امن کے ماحول کو برقرار رکھا جائے۔ اس کے بعد اسلام کی نظریاتی اشاعت اپنے آپ ہونے لگے گی۔ ہندوستانی صوفیاء کا تجربہ اس معاملہ کی ایک تاریخی مثال ہے۔ ان کے زمانہ میں اسلام کی اشاعت کا خاص سبب یہی تھا کہ انہوں نے اپنی صلح کُل کی پالیسی کے ذریعہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے ماحول کو ختم کر دیا تھا۔ موجودہ دنیا کا نظام آزاد مسابقت کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ اس بنا پر موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک فریق کو دوسرے فریق سے شکایتیں پیدا ہوں۔ یہ ایک فطری امر ہے جو ہمیشہ اور ہر سماج میں باقی رہے گا حتیٰ کہ خود مسلم سماج کے درمیان بھی۔ ان شکایتوں کا حل شکایت کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues

Printed page