Al-Risala · June 2002 · page 32

نئی دہلی، ۵ ؍اپریل ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۳۲

اُن سے اعراض کرنا ہے۔ میرے نزدیک ، عملی اعتبار سے دعوت کا یہی سب سے زیادہ اہم نکتہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت تمام تر صبر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ جتنا زیادہ صبر اتناہی زیادہ دعوت۔ میں اکثر یہ کہا کرتا ہوں کہ ہندوستان کے مسلمان صرف یہ کریں کہ وہ کچھ نہ کریں۔ اور اس کے بعد اسلام اپنے آپ پھیلنے لگے گا۔ اسلام کی اصل طاقت یہ ہے کہ وہ دین فطرت ہے۔ یعنی جو اسلام ہے وہی انسانی فطرت ہے، اور جو انسانی فطرت ہے وہی اسلام ہے۔ اس لیے جہاں مصنوعی نفرت اور کشیدگی کا ماحول نہ ہو وہاں اسلام خود اپنے زور پر بندگان خدا کے دلوں میں جگہ پکڑنے لگے گا۔ براوان وطن کی طرف سے بعض اوقات اسلام کے خلاف باتیں سامنے آتی ہیں۔ اس سے مسلمانوں نے یہ رائے قائم کر لی ہے کہ یہ لوگ اسلام سے عناد رکھتے ہیں۔ یہ سراسر بے اصل بات ہے۔ یہ مخالفانہ باتیں جو لکھی اور بولی جاتی ہیں، بظاہر وہ اسلام کے حوالہ سے ہوتی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ قومی اور سیاسی شکایت کا مظہر ہوتی ہیں۔ مسلمان اگر اس حکمت کو جانیں اور برادران وطن کے مقابلہ میں قومی اور سیاسی شکایت کا ماحول ختم کر دیں تو اس کے بعد وہ دیکھیں گے کہ کسی کو بھی اسلام کے خلاف نہ نفرت ہے اور نہ عناد۔

ہندوستان میں اسلام کی جو اشاعت ہوئی ہے وہ زیادہ تر ملک کے پسماندہ طبقات یا غیر تعلیم یافتہ عوام کے درمیان ہوئی۔ یہ لوگ فطری طور پر شعوری انقلاب کے نتیجہ میں اسلام میں داخل نہیں ہوئے بلکہ وہ دوسرے اضافی اسباب کے تحت اُس میں داخل ہوئے، مثلاً برکت یا سماجی برابری جیسی چیزوں کی کشش کی بنا پر۔ یہ عوام جب اسلام میں داخل ہوئے تو وہ اپنے پچھلے مذہب کی رسوم در روایات بھی اپنے ساتھ لائے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ہندوستان میں بدعات کا جو زور ہے وہ عرب ملکوں میں موجود نہیں۔ بدعات کیا ہیں، بدعات دراصل ہندوؤں کی مشرکانہ رسموں کا اسلامائزیشن ہیں۔ ہندوستان میں سماجی ناانصافی کا ماحول اسلام کی اشاعت کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا، مگر اسی کا دوسرا نتیجہ وہ مسائل بھی ہیں جن کو ہم بدعات کہتے ہیں۔ اور جن میں اس ملک کے، پچاس فیصد سے زیادہ مسلمان مبتلا ہیں۔ اس علاقہ میں اسلامی دعوت کی جو منصوبہ بندی کی جائے اُس میں اس بنیادی نکتہ کو ملحوظ رکھنا

‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues

Printed page