نئی دہلی، ۵ ؍اپریل ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۳۳
بے حد ضروری ہے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اسلام آج کی دنیا میں حقیقی معنوں میں غالب دین کی حیثیت سے ابھرے تو اسلام کو علم کے زور پر اٹھانا ہوگا، نہ کہ برکت اور فضائل کے زور پر۔ اسلام کے غلبہ سے مراد سیاسی غلبہ نہیں ہے بلکہ فکری اور نظریاتی غلبہ ہے۔ اسلام کو فکری غلبہ اسی وقت مل سکتا ہے جب کہ اُس کو اس طرح دنیا کے سامنے لایا جائے کہ وہ دوسرے معاصر افکار کے مقابلہ میں لوگوں کو برتر فکر دکھائی دے۔
برکت اور فضائل کا اسلوب صرف عوام کو متاثر کر سکتا ہے، وہ ہرگز خواص کو متاثر کرنے والا نہیں۔ جب کہ یہ حقیقت ہے کہ کسی سماج یا کسی انسانی گروہ کے درمیان کسی فکر کو غالب فکر کی حیثیت اُس وقت ملتی ہے جب کہ اُس سماج یا اُس گروہ کے خواص اُس فکر کو کھلے طور پر اپنا لیں۔ دورِ اول کے مکہ میں ابو بکر صدیق اور عمر فاروق، اسی طرح دورِ اول کے مدینہ میں سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ کے قبول اسلام کے بعد پیدا ہونے والے موافق حالات اس کا تاریخی ثبوت ہیں۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کا خطاب سب سے پہلے اپنی قوم کے خواص سے ہوتا تھا۔ یہ حقیقت قرآن کی اُن آیات سے معلوم ہوتی ہے جن میں قوم کے جواب کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وقال الملاء الذين كفروا من قومه۔
قرآن میں جن لوگوں کو ملاء قوم (سردار قوم) کہا گیا ہے وہ دراصل وقت کے خواص یا وقت کے ذہین لوگ (intellectuals) تھے۔ کسی قوم کے ذہین لوگ در اصل قوم کے مزاج ساز (opinion makers) ہوتے ہیں۔ وہی عوام کے فکر وعمل کا رخ متعین کرتے ہیں۔ بسا اوقات ایک شخص پوری قوم میں زندگی پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے: رَجُلٌ ذُو هِمَّةٍ يُحْىِ الْأُمَّةَ۔
اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: خیارکم فی الجاہلیة خیارکم فی الاسلام۔ دین میں خواص کی یہی اہمیت ہے جس کی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں یہ دعا فرمائی: اللهم اعز الإسلام بأحد العمرين۔ آغاز اسلام کے وقت مکہ میں دو بے حد ذہین آدمی تھے،
‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues