نئی دہلی، ۵ ؍اپریل ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۳۴
عمر بن الخطاب اور عمر و بن ہشام (ابو جہل)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی کے بارے میں مذکورہ دعا فرمائی۔ اس دعا سے اندازہ ہوتا ہے کہ اعلیٰ ذہن کی دین میں کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ آپ نے اپنے مقالہ میں بارہویں صدی عیسوی کے مشہور صوفی خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کا ذکر کیا ہے اور اُن کو اس معاملہ میں ”اُسوہ“ کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس سلسلہ میں آپ نے لکھا ہے:
تاریخ بتاتی ہے کہ خواجہ اجمیری جب افغانستان سے ہندوستان آئے تو اُس وقت راجستھان میں جہاں آپ نے قیام فرمایا تھا، پرتھوی راج کی حکومت تھی۔ جب اُس نے آپ کا چرچا سنا تو وہ آپ کو ستانے اور پریشان کرنے کے در پے ہو گیا۔ آپ کو تکلیف پہنچائیں۔ مگر آپ نے کبھی اس کی حرکتوں کا بُرا نہیں مانا اور اس کے خلاف سیاسی ٹکراؤ کی راہ اختیار نہیں کی بلکہ آپ پوری طرح دعوت کے کام میں یکسو رہے، اور لوگوں کے قلوب کو فتح کرنے کا سلسلہ جاری رکھا، یہاں تک کہ پرتھوی راج بھی خواجہ اجمیری کے حلقہ عقیدت میں داخل ہو گیا۔
آپ کا یہ بیان بالکل درست ہے۔ خواجہ معین الدین اجمیری نے کام کا جو طریقہ اختیار کیا، بلا شبہ وہی طریقہ آج بھی سب سے زیادہ مفید اور مؤثر طریقہ ہے۔ میں اللہ کی توفیق سے اسی طریقہ کا مبلغ ہوں اور عملاً اسی پر کار بند ہوں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ موجودہ مسلمان خواجہ اجمیری کا تو زبردست اعتراف کرتے ہیں لیکن آج اگر کوئی شخص ان کے طریقہ کو موجودہ حالات میں زندہ کرنا چاہے تو اس کے اوپر فرضی الزام لگا کر اس کو بدنام کرنے کی کوشش کریں گے۔ نئی دہلی ۲۷ مارچ ۲۰۰۲ء دعا گو وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues