Al-Risala · June 2002 · page 36

نئی دہلی، ۵ ؍اپریل ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۳۶

کیا۔ یہ انٹرویو خاص طور جہاد کے بارے میں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ قرآن میں جہاد بالقرآن کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی جہاد اصلاً ایک پر امن نظریاتی جدوجہد کا نام ہے۔

۶| سری سروج نیندرا سرسوتی پرتشٹھان کی طرف سے کانسٹی ٹیوشن کلب، نئی دہلی میں ۷ اکتوبر ۲۰۰۱ کو دستور میں روحانیت (Spirituality in the Constitution) کے موضوع پر ایک سیمنار ہوا۔ اس میں خصوصی طور پر ماہر قانون کو بلایا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔

۷| دہلی پریس پر پتر پرکاشن کے نمائندہ مسٹر جے پرکاش پانڈے نے ۲۲ اکتوبر ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ مسلمان اس ملک میں مظالم کا تختہ مشق بن رہے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ افغانستان میں جو کچھ ہوا وہ شرعی جہاد نہیں تھا۔ لڑنا بھڑنا افغانی کلچر کا ایک حصہ ہے۔ یہ افغانی کلچر کا اظہار تھا، نہ کہ اسلامی جہاد۔ ۸| نیو یارک کے ٹائم میگزین کے نمائندہ بینا کشی گنگولی نے ۲۵ اکتوبر ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق خاص طور پر اسلامی جہاد کے مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلامی جہاد (بمعنیٰ قتال) انٹرنیشنل نارم سے الگ کوئی چیز نہیں۔ دنیا کے مسلمہ قانون کے مطابق، دفاع ہر ایک کا حق ہے۔ اس دفاع کو اسلام میں جائز بتایا گیا ہے۔ دفاع کے سوا دوسری قسم کی کوئی جنگ مثلاً گوریلا وار، پراکسی وار، ایگریسیو وار، ان ڈیکلیئرڈ وار (undeclared war) یا اور کسی قسم کی وار اسلام میں جائز نہیں۔

۹| ساؤتھ ایشین فرئیرنیٹی پاکستان کے انفارمیشن سکریٹری، محمد شہباز نے ۱۱ نومبر ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ موضوع ہند۔ پاک تعلقات تھا۔ ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں بتایا گیا کہ یہاں کے مسلمان برابر ترقی کررہے ہیں۔ ان کی تعداد اب ۲۲ کروڑ ہو چکی ہے جو پاکستان سے بہت زیادہ ہے۔ ہند۔ پاک تعلقات کے بارے میں کہا گیا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues

Printed page