نئی دہلی، ۵ ؍اپریل ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۳۷
پاکستان کو چاہئے کہ وہ ماضی کو یکسر بھلا کر حقیقت پسندی کی بنیاد پر نئی منصوبہ بندی کرے۔ نیو ورلڈ موومنٹ (نئی دہلی) کی طرف سے ۱۸ نومبر ۲۰۰۱ کو انڈ یا انٹر نیشنل سنٹر میں ایک سیمنار ہوا ۔ اس کا موضوع عالمی دہشت گردی تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اس موضوع پر اسلامی نقطہ نظر سے اظہار خیال کیا۔
ایرانی نیوز ایجنسی (IRNA) کے نمائندہ مسٹر نوید جمال نے ۲۲ نومبر ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات کا تعلق زیادہ تر ویسٹ ایشیا کے مسلم ممالک کے حالات سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ویسٹ ایشیا کے ممالک کے مسائل کی جڑ صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ وہ اپنی پالیسی کو حقائق کی بنیاد پر بنائیں۔ ان ملکوں نے ابھی تک وقت کے حقائق کو تسلیم نہیں کیا ہے اس لئے وہ مسائل کے شکار ہیں۔
آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۸ دسمبر ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر صلح حدیبیہ کے موضوع پر نشر کی گئی۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا: صلح حدیبیہ کوئی وقتی واقعہ نہیں۔ وہ زندگی کا اصول ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ٹکراؤ کو اوائڈ کرکے مواقع کار حاصل کرو۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔
وائی ایم سی اے (YMCA) نئی دہلی کے ہال میں ایک آل انڈیا سمینار ہوا اس کا عنوان تھا: Faith and Human Relationships اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ اس موضوع پر اسلام کے حوالہ سے ایک لکچر دیں ۔ ۸ دسمبر ۲۰۰۱ کے اجلاس میں انہوں نے اپنا لکچر دیا۔ حاضرین نے اس کو بہت پسند کیا اور کہا کہ آج اسلام کے بارہ میں ہماری بہت سی غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔
راشٹریہ سہارا ہندی (نئی دہلی) کے نمائندہ تیج بہادر یادو نے ۸ دسمبر ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ مدرسہ کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ مدرسہ کوئی نئی چیز نہیں۔ ہر زمانہ میں اور ہر جگہ مدرسہ رہا ہے۔ مدرسہ کا کوئی تعلق آتنک واد سے نہیں۔ وہاں تو
‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues