Al-Risala · June 2002 · page 38

نئی دہلی، ۵ ؍اپریل ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۳۸

صرف مذہب اور اخلاق کی تعلیم دی جاتی ہے۔

15"ہم سب ایک ہیں" نامی تنظیم کی طرف سے ۱۹ دسمبر ۲۰۰۱ کوانڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ٹررزم پر ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس موضوع پر اسلامی نقطۂ نظر سے ایک تقریر کی۔

16 ۲۱ دسمبر ۲۰۰۱ کو سنہار آئی وی کی ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا تعلق برصغیر کے موجودہ حالات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہر ایک کو سوچنا چاہئے کہ اس کی غلطی کیا ہے، دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ دوسرے یہ کہ جنگ کو ہر قیمت پر روکنا چاہئے۔ جنگ میں کسی فریق کا بھی فائدہ نہیں۔

17 ۲۲ دسمبر ۲۰۰۱ کو سٹیج گڑھ چرچ کا مپلكس (نئی دہلی) میں ایک اجتماع ہوا۔ یہ مسلم۔ کرشچین ڈائیلاگ تھا۔ ان کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور کی نوٹ ایڈریس کے طور پر ایک تقریر کی۔ اس میں مسلمان اور کرشچین دونوں شریک ہوئے۔ تقریر میں انہوں نے کہا که ڈائیلاگ کوئی مناظرہ یا ڈیبیٹ نہیں ہے۔ وہ ایک دوسرے سے سیکھنا اور مشترک عمل کی راہیں تلاش کرنا ہے۔ اس طرح ڈائیلاگ ہر فریق کے لئے مفید بن سکتا ہے۔

18 چائلڈ رائٹس، نئی دہلی (The Child's Rights Bulletin) کے ایڈیٹر جوزف گاتھیا (Joseph Gathia) نے ۲۳ دسمبر ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر لڑکیوں کی تعلیم کے مسئلہ سے تھا۔ جواب میں کہا گیا کہ اسلام میں لڑکیوں کی تعلیم کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کہ لڑکوں کی تعلیم کی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام لڑکیوں کی تعلیم کو پسند نہیں کرتا۔ 19 مسٹر دودساجد نے ماہنامہ سیکولر قیادت (نئی دہلی) کے لئے صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ۲۵ دسمبر ۲۰۰۱ کوریکارڈ کیا گیا۔ یہ انٹرویو اردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی شائع کیا جائے گا۔ اس میں اسلامی جہاد کا تصور تفصیل کے ساتھ بتایا گیا، تاریخی اعتبار سے بھی اور نظریاتی اعتبار سے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues

Printed page