Al-Risala · June 2002 · page 39

نئی دہلی، ۵ ؍اپریل ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۳۹

۲۰ ریسرچ اسکالر مسٹر دیپک ورما (نئی دہلی) نے ۲۸ دسمبر ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کے سوالات زیادہ تر روحانیت، سائنس اور مذہب سے متعلق تھے۔ جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ روحانیت کے دو مختلف تصورات ہیں۔ ایک تصور وہ ہے جو وحدت الوجود (مانزم) پر مبنی ہے۔ اس کا طریقہ دھیان گیان ہے۔ روحانیت کا دوسرا تصور توحید کے عقیدہ پر مبنی ہے۔ اس کا طریقہ خدا کا ذکر اور خدا کی عبادت پر مبنی ہے۔

۲۱ بی بی سی لندن کے ریلیجس رپورٹر مسٹر مارٹن اسٹوٹ (Martin Stott) نے ۲۸ دسمبر ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کے سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلمانانِ عالم کے موجودہ مسائل سے تھا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا موقف اکثر معاملات میں غیر حقیقت پسندانہ ہو جاتا ہے۔ اس کا کم از کم ایک سبب امت کا سیاسی تصور ہے۔ یہ تصور سید جمال الدین افغانی نے شروع کیا تھا جو پان اسلامزم کے نام سے مشہور ہوا۔ مذہبی اعتبار سے مسلمان بلاشبہ ایک عالمی امت ہیں مگر سیاسی اعتبار سے ان کی قومیت ہوم لینڈ کے تصور قومیت پر مبنی ہوگی۔

۲۲ مہاویر انٹرنیشنل کے زیر انتظام بمبئی میں نان وائلنس پر ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور ۳۰ دسمبر ۲۰۰۱ کے اجلاس میں نان وائلنس اور اسلام کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام کا اصل نشانہ دل اور دماغ کی تبدیلی ہے۔ اس لئے اسلام ہر حال میں امن چاہتا ہے کیوں کہ دل اور دماغ کی تبدیلی کا کام پرامن حالات ہی میں ہو سکتا ہے۔

۲۳ ماہنامہ الرسالہ کا ہندی ایڈیشن بمبئی سے نکلنا شروع ہو گیا ہے۔ اس کا پہلا شمارہ جنوری ۲۰۰۲ پر مشتمل ہے۔ ہندی الرسالہ کا افتتاحی پروگرام ۳۰ دسمبر ۲۰۰۱ کو بمبئی میں ہوا جس میں اس کا پہلا شمارہ جاری کیا گیا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس افتتاحی پروگرام میں شرکت کی اور ہندستان میں اسلامی دعوت کی اہمیت پر ایک تقریر کی۔ ہندی الرسالہ کا پتہ اردو الرسالہ کے ہر شمارہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues

Printed page