نئی دہلی، ۵ ؍اپریل ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۴۱
۲۸ جنوری ۲۰۰۲ کو روزنامہ ہندوستان (نئی دہلی) کے نمائندہ سشیل شرما نے الیکشن اور مسلمان کے مسئلہ پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی انتخابی سیاست فرقہ وارانہ بنیادوں پر نہیں ہونا چاہئے بلکہ ملکی اور قومی سوچ کے تحت ہونا چاہئے۔ جہاں تک الیکشن کا تعلق ہے، ہندوستانی مسلمانوں کا مفاد دوسرے فرقوں سے الگ نہیں۔
۲۹ بشپ ہال (نئی دہلی) میں ۲۹ جنوری ۲۰۰۲ کو ایک مشترک سیمنار ہوا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور ”پیس اینڈ ہارمنی ان اسلام“ کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ پیس اینڈ ہارمنی فطرت کا اصول ہے اور اسلام چونکہ دین فطرت ہے، اس لیے اس میں فطرت کے تمام قوانین کی رعایت موجود ہے۔ اسلام میں امن کی حیثیت عموم کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف ایک استثناء کی۔
۳۰ آرچ ڈیوسیز آف دہلی (Archdiocese of Delhi) کی طرف سے ایک انٹر ریلیجس سیمنار آرچ ڈیوسس کمیونٹی ہال (گول ڈاک خانہ) میں ۲۹ جنوری ۲۰۰۲ کو منعقد کیا گیا۔ پیس اور ہارمنی کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر پر صدر اسلامی مرکز نے ایک تقریر کی۔ ۳۱ شانتی گری آشرم (نئی دہلی) کے افتتاح کے موقع پر ایک فنکشن ۳ فروری ۲۰۰۲ کو ہوا۔ اس میں شہر کے ممتاز لوگ شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور روحانیت کے موضوع پر انگریزی میں ایک تقریر کی۔
۳۲ راشٹریہ سہارا (ہندی) کے لئے مسٹر ودود ساجد نے ۴ فروری ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر بابری مسجد ۔ رام مندر کے مسئلہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ نزاعی مسئلہ کو اول مرحلہ میں مکمل طور پر ختم کر دینا چاہئے۔ نزاعی مسئلہ کو باقی رکھنا اس کو مزید بڑھانے کا سبب ہوتا ہے۔ ۳۳ تہلکہ ڈاٹ کام (نئی دہلی) کے سینئر کرسپانڈنٹ شمیا داس گپتا (Shamya Das Gupta) نے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues