نئی دہلی، ۵ ؍اپریل ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۴۲
۱۰ فروری ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو خاص طور پر اسلامی جہاد کے موضوع پر تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ جہاد لازماً قتال کے معنیٰ میں نہیں ہے۔ اور اگر تو سیعی طور پر جہاد کو مسلح جہاد کے معنیٰ میں لیا جائے تب بھی اسلام میں اس کی کڑی شرطیں ہیں۔ مثلاً اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے۔ کوئی اور جنگ اسلام میں جائز نہیں۔ اسی طرح اسلام میں صرف قائم شدہ اسٹیٹ جنگ کر سکتی ہے اور خود اسلامک اسٹیٹ کے لئے بھی کھلا اعلان ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں دفاعی جنگ کے سوا گور یلا وار، پراکسی وار یا بلا اعلان جنگ اور جارحانہ جنگ قطعاً جائز نہیں۔
۳۴ سینٹ کولمبس اسکول (نئی دہلی) میں ۱۹ فروری ۲۰۰۲ کو عیسائی ٹیچر اور فادر کا ایک اجتماع ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اسلام کے تعارف پر ایک گھنٹہ کی تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا سیشن تھا۔ زیادہ تر سوالات اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں سے متعلق تھے۔ یہ پورا پروگرام انگریزی میں ہوا۔
۴۵۔ سہارا ٹی وی (نئی دہلی) نے ۱۹ فروری ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ کہا جاتا ہے کہ میڈیا موجودہ زمانہ میں اسلام کے بارے میں غلط فہمی پھیلارہا ہے، اس کا حل کیا ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ اس کا حل یہ ہے کہ اُس کے سبب کو دور کیا جائے۔ اس کا اصل سبب میڈیا نہیں ہے بلکہ خود مسلمان ہیں۔ موجودہ زمانہ میں ہر مذہبی گروہ کے لوگ کہیں نہ کہیں تشد د کی تحریک چلا رہے ہیں۔ اُن کی سرگرمیاں میڈیا میں بھی آتی ہیں۔ مگر اس سے اُن کا مذہب بدنام نہیں ہوتا۔ کیوں کہ یہ لوگ اپنی متشددانہ تحریک اپنے مذہب کے نام پر نہیں چلاتے بلکہ اپنے مادی مفاد کے نام پر چلاتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی متشددانہ تحریک کو اسلامی جہاد کے نام پر چلا رہے ہیں۔ اس لیے وہ میڈیا میں اسلامی جہاد کے عنوان سے رپورٹ کیا جاتا ہے۔ اگر وہ دوسرے فرقوں کی طرح اپنی متشد دانہ تحریک کو اپنے مادی مفاد کے نام پر چلائیں تو اپنے آپ اسلام کی بدنامی کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ مسلمانوں کی یہ متشددانہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues