نئی دہلی، ۵ ؍اپریل ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۴۳
تحریکیں یقینی طور پر اپنے مادی مفاد کے نام پر چلائی جارہی ہیں۔ اُن کو اسلامی جہاد بتانا بلا شبہ ایک غلط انتساب ہے۔ مگر میڈیا ایسے کسی فعل کو اسی نام سے رپورٹ کرے گا جس نام سے وہ چلائی جارہی ہو۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ مسلمان اسلام کے نام پر تشدد کریں اور میڈیا اس کی رپورٹ اس طرح کرے کہ وہاں لوگوں کو اسلامی پھول پیش کئے گئے۔
۳۶ دہلی پالیسی گروپ کے زیر اہتمام نئی دہلی کے انڈیا ہیبیٹٹ سنٹر (India Habitat Centre) میں ۱۹-۲۰ فروری ۲۰۰۲ کو اسلام میں جنگ و امن پر ایک سیمنار ہوا۔ اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے وار اینڈ پیس ان اسلام (War and Peace in Islam) کے موضوع پر ایک تقریر کی۔
۳۷ ڈی ڈی نیوز (نئی دہلی) کے لئے رام کانت، کرسپانڈنٹ نے ۲۰ فروری ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو زیرو آور (Zero Hour) کے لئے ریکارڈ کیا۔ امریکہ اور افغانستان کے درمیان جنگ کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس میں آخر کار دونوں ہی ملک گھاٹے میں رہیں گے۔ جنگ اور تشدد کے ذریعہ کوئی مثبت فائدہ حاصل کرنا ممکن نہیں۔ ۳۸ ڈان باسکو اسکول (نئی دہلی) میں ۲۱ فروری ۲۰۰۲ کو ایک سیمنار ہوا۔ اس کا موضوع تھا: مذاہب کے درمیان اتحاد۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور اسلام کے نقطہ نظر سے اس موضوع پر انگریزی میں ایک تقریر کی۔ ایک بات یہ کہی گئی کہ مذاہب کے فرق اور اختلاف کو مٹانے کی بات کرنا غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ قابلِ عمل بات یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود اتحاد کے فارمولے کو مان لیا جائے۔
۳۹ اسپرپچول انٹریفتھ کی ٹیم نے ۲۴ فروری ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مدرسہ اور اسکول سے ذہن نہیں بنتا بلکہ اس پورے ماحول سے ذہن بنتا ہے جس میں طالب علم زندگی گزارتا ہے۔
۴۰ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (نئی دہلی) میں ۲ مارچ ۲۰۰۲ کو ایک جلسہ ہوا۔ یہ جلسہ تشدد کے حالیہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues