Al-Risala · June 2002 · page 44

نئی دہلی، ۵ ؍اپریل ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۴۴

واقعات پر ہوا تھا۔ ۲۷ فروری ۲۰۰۲ کو گودھرا ریلوے اسٹیشن پر سا برمتی ایکسپریس میں ۶۰ سے زیادہ آدمیوں کو جلا کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس کے رد عمل میں گجرات اور دوسرے مقامات پر تشدد کے نہایت سنگین واقعات ہوئے۔ اس کے پس منظر میں یہ جلسہ کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور وہاں ایک تقریر کی۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ ملک کی ترقی امن اور پیار محبت کے ساتھ ہو سکتی ہے، نہ کہ تشدد کے ذریعہ۔ آزاد ہندوستان کے معماروں نے ملک کی تعمیر کے بارے میں جو خواب دیکھا تھا اس کی تکمیل صرف پر امن ماحول ہی میں ہو سکتی ہے۔

۲۱ و نے کار ٹھاکر نے راشٹریہ سہارا ہندی کے لئے ۴ مارچ ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ آج کل جو تشدد جاری ہے اس کا حل کیا ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ تشدد کے مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ جوابی تشدد سے مکمل اعراض کیا جائے، لفظی اعتبار سے بھی اور عملی اعتبار سے بھی۔

۲۲ راما کرشنا مشن کے تحت نئی دہلی میں ۵ مارچ ۲۰۰۲ کو ایک سیمنار ہوا۔ اس کا موضوع تھا: How to promote Pluralistic Culture in today's context اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اس موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ باہمی احترام کی بنیاد پر یہ اتحاد قائم ہو سکتا ہے۔ یہی اسلام کا اصول ہے۔ اسلام اختلاف کو تسلیم کرتے ہوئے باہمی احترام کی بنیاد پر سوشل ہارمنی قائم کرنا چاہتا ہے۔ ۲۳ مسٹر انتھمت مثل نے ۶ مارچ کو صدر اسلامی مرکز سے انٹرویو لیا۔ وہ ایک فری لانس جرنلسٹ ہیں۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر گجرات میں ہونے والے فسادات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ بہت جلد ملک سے اس قسم کے فسادات کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ خاتمہ ضمیر کی طاقت کے زور پر ہوگا۔ جب سیاسی ذمہ دار اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو اس وقت انسانی ضمیر بیدار ہو کر اپنا کام کر دیتا ہے۔

۲۴ نیو ورلڈ موومنٹ (نئی دہلی) کی طرف سے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ۹ مارچ ۲۰۰۲ کو ایک سیمنار

‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues

Printed page