Al-Risala · January 2002 · page 30

ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۰

اظہار کیا تو انہوں نے اس سے پوری طرح اتفاق کیا۔

بنگلہ دیش کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ یہاں کی آبادی میں تقریباً ۱۵ فیصد ہندو ہیں۔ ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے مذہبی طبقہ نے اپنی محدود سوچ کی بنا پر ان ہندوؤں کو ابھی تک صرف ایک مسئلہ سمجھا ہے۔ حالانکہ وہ بنگلہ دیش کے لئے ایک ایڈوانٹیج ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے سماج میں چیلنج اور مسابقت کی حالت پیدا ہوتی ہے۔ اور چیلنج اور مسابقت کے بغیر کوئی قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔

عام طور پر بنگلہ دیش کو ایک غریب ملک سمجھا جاتا ہے اور اس کا سبب جغرافی ناموافقت ہے۔ مگر میرے نزدیک یہ ایک غلط تو جیہہ ہے۔ جغرافی ناموافقت اس دنیا میں کوئی مسئلہ نہیں۔ عرب کو ہزاروں سال سے ایک صحرائی ملک سمجھا جاتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں معلوم ہوا کہ اس ”بے آب“ سرزمین کے نیچے تیل کا قیمتی چشمہ رواں ہے۔ یہی معاملہ بنگلہ دیش کا ہے۔ بنگلہ دیش کے اس بظاہر غیر موافق جغرافیہ کے اندر نیچرل گیس کے بھاری ذخیرے دریافت ہوئے ہیں جن کو اگر ملک کے لئے درست طور پر استعمال کیا جائے تو وہ بنگلہ دیش کو ایک دولت مند ملک بنانے کے لئے کافی ہیں۔

کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی اصل کمی یہاں کی جذباتی قیادت ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے یہاں تقسیم کا ہنگامہ جاری رہا۔ اس کے بعد سے ۱۹۷۱ سے یہاں آزاد بنگلہ کے ہنگامے جاری ہوئے۔ اب کچھ لوگ اسلامی بنگلہ کے نام پر یہاں نیا ہنگامہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ ان ہنگاموں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ یہاں مسلسل باقی رہنے والا کوئی تعمیری عمل جاری نہ ہو سکا۔ یہی بنگلہ دیش کا بلکہ تمام مسلم ملکوں کا اصل مسئلہ ہے۔ میں نے کہا کہ کامیابی نام ہے مستقل کوشش کے نتیجہ کا، مگر یہی چیز مسلم ملکوں میں موجود نہیں۔

تقسیم کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کی کچھ تعداد مشرقی پاکستان چلی گئی تھی ، ان میں سے ڈھائی لاکھ اب بھی بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں میں آباد ہیں۔ وہ غیر ملکی کی حیثیت سے یہاں

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page