Al-Risala · January 2002 · page 31

ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۱

رہتے ہیں۔ یہاں کے کچھ لوگوں سے ان کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ ان لوگوں کے بارے میں تفصیل معلوم ہونے کے بعد اندازہ ہوا کہ اس المیہ کی ابتدائی ذمہ داری خود انہی اردو خواں مہاجرین پر ہے۔ وہ اپنے کلچر کی برتری کے احساس میں مبتلا تھے اور بنگالیوں کے کلچر کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں بہت سے مسائل پیدا ہوئے۔ مثال کے طور پر ۱۹۶۹ء میں ڈھاکہ میں سخت قسم کا فساد ہوا جس میں بنگالی مسلمان اور مہاجر مسلمان ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ اس فساد کا سبب یہ تھا کہ مہاجرین نے یہ مطالبہ کیا کہ انتخابات کے لئے ووٹر کا فارم اردو میں بھی مہیا کیا جائے۔ بنگالیوں نے اس سے اختلاف کیا۔ ان کا یہ مطالبہ تھا کہ یہ مہاجر بنگلہ زبان سیکھیں ۔ اس پر شدت بڑھی۔ یہاں تک کہ دونوں کے درمیان خونی فساد کی نوبت آگئی۔

میرے نزدیک حقیقت پسندانہ بات یہ تھی کہ مہاجرین جب یہاں آئے ہیں تو وہ خود یہاں کی زبان سیکھیں، نہ کہ اپنی زبان دوسروں کے اوپر مسلط کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستان میں ۱۹۷۰ء میں عام انتخابات ہوئے تو اس میں وہ صورت پیدا ہوگئی جس کو میں نے اپنے ایک مضمون میں ایک ملک دو فاتح (الجمعیتہ ویکلی، ۱۵ جنوری ۱۹۷۱ء) کے عنوان کے تحت لکھا تھا۔ اس الیکشن میں مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو مغربی پاکستان کے بیشتر ووٹ ملے اور مشرقی پاکستان کے تقریباً تمام ووٹ شیخ مجیب الرحمن کے حصہ میں آئے۔ اب دونوں پرائم منسٹر بننے کے دعویدار ہو گئے۔ اس طرح پاکستان میں ایک ملک دو فاتح کی صورت حال پیدا ہو گئی۔ دونوں میں سے کوئی بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہ تھا۔ یہاں تک کہ ملک بٹ گیا تا کہ دونوں میں سے ہر ایک کو پرائم منسٹر کی سیٹ مل سکے۔

ایک پاکستانی مسلمان سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ کشمیر کی بے فائدہ جنگ آپ لوگ کیوں چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم انڈیا سے بنگلہ دیش کا بدلہ لے رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر بالفرض انڈیا نے پاکستان کو دو ٹکڑے کر کے بنگلہ دیش بنوایا ہو تب بھی آپ کے لئے یہ عقل مندی کی بات نہیں۔ اس معاملہ میں دانش مندانہ سوچ یہ ہے کہ آپ اپنے عوام کو یہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page