Al-Risala · July 2002 · page 59

مشکل آسان ہوگئی

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۵۹

رہا۔ اس جھگڑے نے مینیجر کو سخت ذہنی انتشار میں مبتلا کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ سوچنے لگا کہ وہ خودکشی کر لے۔ مسئلے کو ختم کرنے کے بجائے اُس نے یہ طے کیا کہ وہ خود اپنا خاتمہ کرلے اور اس طرح وہ اس مسئلے سے نجات حاصل کرے۔

مجھ سے ملاقات ہوئی تو میں نے اُن سے کہا کہ آپ خودکشی کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کے لیے زندگی کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ پھر موت کا راستہ اختیار کرنے کی کیا ضرورت۔ میں نے کہا کہ آپ نے بظاہر صرف فرسٹ چانس کو کھویا ہے، سیکنڈ چانس پھر بھی آپ کے لیے موجود ہے۔ آپ ایسا کیجیے کہ اپنی جگہ بدل لیجیے۔ آپ کسی دوسرے شہر میں چلے جائیے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی صلاحیت کی بنا پر دوسرے شہر میں اپنے لیے اچھے مواقع پالیں گے۔ یہ مشورہ دینے کے بعد میں نے اُن کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے: ’’باغ کا مالی کبھی باغ کے ایک پودے کو اپنی جگہ سے اُکھاڑتا ہے، صرف اس لیے تا کہ وہ اُس کو دوسری زیادہ بہتر جگہ پر نصب کرے۔ ‘‘ انہوں نے میرا مشورہ مان لیا اور کمپنی سے استعفا دے کر ایک اور شہر میں چلے گئے۔ اب وہاں وہ کاروبار کر رہے ہیں۔ پہلے کے مقابلہ میں اب وہ معاشی اعتبار سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔ ہر آدمی کی زندگی میں وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ کسی محرومی کا تجربہ کرتا ہے۔ جو لوگ محرومی کو صرف ایک محرومی سمجھیں وہ نئی کوشش کے ذریعہ اپنے آپ کو دوبارہ کامیاب کر لیتے ہیں۔ اور جو لوگ محرومی کو مستقل نا کامی سمجھ لیں وہ پست ہمت ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اُن کے اندر دوبارہ کوئی نیا عمل کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ یہ دونوں حالتیں آدمی کی اپنی سوچ پر منحصر ہیں۔ ایک قسم کی سوچ آدمی کو ناکام بنا دیتی ہے اور دوسری قسم کی سوچ اُس کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔

مشکل آسان ہوگئی

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دس ہزار سے زیادہ اصحاب کے ساتھ مکہ سے طائف جا رہے تھے۔ درمیان میں ایک پہاڑی راستہ آیا جو بظاہر کشادہ نہ تھا۔ آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ راستہ کیسا ہے۔ لوگوں نے راستہ کو اس کی حیثیت ظاہری (face value) پر لیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تنگ راستہ ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page