Al-Risala · July 2002 · page 60

غلط سوچ کا نقصان

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۶۰

بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دس ہزار سے زیادہ آدمیوں کا یہ قافلہ اس تنگ راستہ سے گزر نہیں سکے گا۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، یہ ہمارے لیے ایک کشادہ راستہ ہے۔ اور پھر آپ نے یہ تدبیر بتائی کہ تم لوگ مجمع کی صورت میں اس راستے سے گزرنا چاہتے ہو اس لیے تم کو یہ راستہ تنگ دکھائی دیتا ہے۔ کیوں کہ بیک وقت پورے مجمع کو اُس سے گزرنا ہو تو وہ ہمارے لیے تنگ ہی ثابت ہو گا۔ اب تم ایسا کرو کہ آگے پیچھے ہو کر قطار بنالو۔ چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ اب وہ آسانی کے ساتھ چلتے ہوئے اس راستہ سے گزر گئے۔ مجمع کی صورت میں جو راستہ تنگ دکھائی دے رہا تھا قطار کی صورت میں وہ ایک کشادہ راستہ بن گیا۔ یہ سوچ کا فرق ہے۔ اس دنیا میں سب کچھ سوچ پر منحصر ہے۔ غلط سوچ آسان کو مشکل بنا دیتی ہے اور صحیح سوچ مشکل کو آسان کر دیتی ہے۔ سوچ کے اس فرق کا تعلق زندگی کے چھوٹے معاملات سے بھی ہے اور بڑے معاملات سے بھی۔ اْس کا تعلق گھریلو مسائل سے بھی ہے اور قومی اور بین اقوامی مسائل سے بھی۔

غلط سوچ کا نقصان

۱۹۳۰ء میں الٰہ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس ہوا۔ علامہ اقبال اس وقت لاہور میں رہتے تھے۔ وہ الٰہ آباد آئے اور اس اجلاس کی صدارت کی۔ اقبال نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ غیر منقسم ہندوستان میں مسلمان اپنی شناخت کو محفوظ نہ رکھ سکیں گے اس لیے ہندوستان جب آزاد ہو تو یہاں کے مسلم اکثریتی علاقہ میں ان کا علیحدہ مسلم لینڈ بنایا جائے۔ یہ تجویز بعد کو پاکستان کے نام سے مسلمانوں میں مقبول ہوئی۔ یہاں تک کہ ۱۹۴۷ء میں برصغیر ہند سے الگ ایک مسلم علاقہ پاکستان کے نام سے وجود میں آگیا۔ علیحدہ مسلم خطہ کا یہ تصور دوسرے مسلم مفکرین نے بھی اختیار کر لیا۔ اور اس تصور پر مبنی بہت سی تحریکیں دنیا کے مختلف حصوں میں وجود میں آگئیں۔ ان تحریکوں کو ایک لفظ میں پاکستانائزیشن (Pakistanization) کہا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد یہ ہوا کہ جس ملک میں بھی کوئی ایسا سرحدی خطہ تھا جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی وہاں پاکستانائزیشن کی یہ تحریک شدّت کے ساتھ ابھر آئی۔ ہر جگہ ایسے لیڈر پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page