غلط سوچ کا نقصان
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۶۱
پر جوش تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ مسلمانوں میں علیحدگی پر مبنی جذباتی سیاست کو فروغ دیا۔ اس سلسلہ میں مثال کے طور پر برما، فلپائن، ابی سینیا، چین، یوگوسلاویا، وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے۔ یہ علاقائی مسلم لیڈر اپنے پاکستانائزیشن کے خیالی تصور میں دیوانگی کی حد تک پر جوش تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تفریقی سیاست کو پر امن طریقہ کار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کو مسلح جدوجہد(armed struggle) کے دائرہ کی خونیں حد تک پہنچادیا۔ پاکستانائزیشن کی یہ پر تشدد تحریکیں ہر جگہ ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ اس نے مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ کے سوا کچھ اور کارنامہ انجام نہیں دیا۔ پاکستانائزیشن کی یہ تباہ کن تحریک کیوں کر ساری مسلم دنیا میں مقبول ہوگئی۔ اس کا سبب اس دور کے مسلم رہنماؤں کی ایک خلاف زمانہ سوچ(anachronistic thinking) تھی۔ وہ زمانہ کی نئی تبدیلیوں کو سمجھ نہ سکے۔ ایک ایسے دور میں جب کہ ساری دنیا ایک ہو کر گلوبلائزیشن(Globalisation) کے دور میں داخل ہو رہی تھی، عین اسی زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے زمانہ سے اپنی بے خبری کے نتیجہ میں پاکستانائزیشن کی صورت میں برعکس تحریکیں چلا دیں۔ یہ تحریکیں زمانی چٹان سے ٹکرانے کے ہم معنی تھیں ۔ اس لئے اس قسم کی تحریکوں کا وہی منفی انجام ہوا جو اول دن سے ان کے لئے مقدر تھا۔ جدید زمانی تبدیلیوں نے پچھلے ہر دور سے زیادہ باہمی اختلاط(interaction) کی اہمیت بڑھا دی تھی۔ مگر مسلم لیڈر انتہائی نادانی کے ساتھ اس کے سراسر برعکس اپنی تحریکیں چلا رہے تھے۔ تاریخی تجربات آخری طور پر ثابت کر چکے تھے کہ ترقی کا لازمی ذریعہ چیلینج اور مسابقت(competition) ہے، مگر یہ مسلم لیڈر نہایت سرگرمی کے ساتھ مسلمانوں کے لیے ایک ایسی دنیا بنانے میں مشغول تھے جہاں ان کے لیے نہ چیلینج ہواور نہ مسابقت کا ماحول۔ جدید تبدیلیوں نے ترقی کے جو اعلیٰ مواقع کھولے تھے ان سے یہ ثابت ہو رہا تھا کہ وسیع مشترک عمل سے ہی بڑی ترقیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ مگر یہ مسلم لیڈر مسلمانوں کے لیے ایسا سیاسی جزیرہ بنانے کو اپنا کارنامہ سمجھ رہے تھے جہاں وہ مشترک کثیر بین اقوامی تعاون سے محروم ہوگئے ہوں۔
جدید کمیونی کیشن نے جغرافی علیٰحدگی کے تصور کو سراسر غیر ضروری قرار دے دیا تھا۔ مگر یہ مسلم
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues