مثالوں سے استدلال
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۶۲
لیڈر اس تبدیلی سے بے خبر ہو کر مضحکہ خیز حد تک بے فائدہ تحریکوں میں اپنا وقت اور مال ضائع کرتے رہے۔ زمانہ نے آزادی اور جمہوریت کی صورت میں ایک عظیم امکان کھولا تھا جو شخصی حکومت کے بجائے عمومی اشتراک طاقت (power sharing) کے اصول قائم تھا۔ مگر ان مسلم لیڈروں نے نہ اس امکان کو سمجھا اور نہ وہ اس کو استعمال کرنے میں کامیاب ہو سکے۔
جدید تبدیلیوں نے ایک نیا موافق امکان کھولا تھا جس کو اداراتی دور (age of institutions) کہا جا سکتا ہے۔ قدیم شاہی زمانہ کے برعکس، اب حکومت صرف ایک منتظمہ (administration) کے محدود سیاسی دائرہ میں سمٹ آئی تھی۔ اس کے سوا ہزاروں نئے شعبے ایسے پیدا ہو گئے تھے جن میں ادارے (institutions) قائم کر کے حکومتی رتبہ سے بھی بڑا رتبہ حاصل کیا جاسکتا تھا، مثلاً تعلیم، اقتصادیات، میڈیا وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہ مسلم لیڈر شعوری طور پر اس جدید امکان سے باخبر ہی نہ تھے پھر وہ اس کو استعمال کس طرح کرتے۔
مثالوں سے استدلال
اکثر لوگ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے فرضی مثال دیا کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کا طریقہ ادب ہے، نہ کہ استدلال۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے کہ تمثیل کا طریقہ استدلال کا سب سے کمزور طریقہ ہے:
Analogy is the weakest form of argument.
مثلاً جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ہر مذہب نجات کا ذریعہ ہے، ہر مذہب یکساں طور پر خدا تک پہنچانے والا ہے۔ اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے یہ تمثیل دی جاتی ہے کہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر ایک بلڈنگ ہو تو پہاڑ کے جس طرف سے بھی آدمی چڑھ کر اوپر پر جائے وہ آخر کار بلڈنگ تک پہنچ جائے گا۔ اسی طرح جس مذہبی طریقہ کی پیروی کی جائے وہ آخر کار آدمی کو ایک خدا تک پہنچادے گا۔ علمی تجزیہ اس تمثیل کو بالکل غلط ثابت کرتا ہے۔ مثلاً کلکتہ جانے والا ایک مسافر دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر ہو تو وہ دیکھے گا کہ وہاں درجنوں گاڑیاں مختلف پٹریوں پر کھڑی ہوئی ہیں۔ اب اگروہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues