Al-Risala · July 2002 · page 63

چھوٹا شر

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۶۳

ایسا کرے کہ وہ مذکورہ فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی گاڑی پر بیٹھ جائے تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ لازماً اُس کو کلکتہ پہنچا دے۔

تمثیلی استدلال کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ ایک صورت حال میں بظاہر درست نظر آتا ہے، لیکن اگر صورت حال کو بدل دیا جائے تو اُس کا سارا استدلال بے معنیٰ ہو جائے گا۔ چنانچہ مذکورہ تمثیلی استدلال پہاڑ کی چوٹی کے معاملہ میں بظاہر درست نظر آتا ہے مگر یہی تمثیلی استدلال ریلوے اسٹیشن کے معاملہ کی صورت میں غیر متعلق اور بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔

چھوٹا شر

حضرت عمر فاروق کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے:۔ (لیس العاقل الذی يعرف الخير من الشر ولكنه الذى يعرف خير الشرين۔ (العبقريات الاسلامیہ، ۵۰۵) عقل مند وہ نہیں ہے جو یہ جانے کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے، بلکہ عقل مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے کون سا شر بہتر ہے۔ حضرت عمر فاروق کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی آدمی کے پاس صرف دو فہرست ہو، ایک اُن چیزوں کی فہرست جو خیر ہیں، اور دوسری اُن چیزوں کی فہرست جو شر ہیں، ایسا آدمی عالم تو ہوسکتا ہے مگر وہ عاقل نہیں ہوسکتا۔ عاقل یا دانش مند ہونے کے لیے آدمی کو ایک اور چیز سے واقفیت ہونی چاہئے، اور وہ خیر الشرین ہے، یعنی دو شر میں سے۔ بہتر شر۔ یہ جاننا کہ دو شر میں سے کون سا شر نسبتاً کم نقصان والا ہے، یا چھوٹی برائی (lesser evil) کی حیثیت رکھتا ہے۔

مثلاً آپ کے گھر کے سامنے کچھ لوگ قابلِ اعتراض نعرے لگارہے ہوں تو ایک شر اُن کی یہ نعرہ بازی ہے۔ دوسرا امکانی شر یہ ہے کہ اگر آپ انہیں روکیں یا اُن سے نزاع کریں تو وہ مزید مشتعل ہو کر فساد برپا کریں گے اور جان و مال کا نقصان پہنچائیں گے۔ اب عقل مند آدمی وہ ہے جو ٹھنڈے ذہن سے سوچ کر یہ سمجھے کہ دونوں قسم کے شر میں سے کون سا شر بڑا ہے اور کون سا شر چھوٹا ۔ اور پھر وہ چھوٹے شر کو برداشت کرلے تا کہ اُس کو بڑا شر برداشت نہ کرنا پڑے۔

عام آدمی معاملات میں صرف دو چیزوں کو جانتا ہے__ خیر کے پہلو کو اور شر کے پہلو کو۔ مگر

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page