Al-Risala · July 2002 · page 64

تحمل کی طاقت

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۶۴

دانش مند آدمی وہ ہے جو شر کو دو قسموں میں تقسیم کر سکے، اور پھر دونوں میں سے جو شر مقابلہ خیر یا بالفاظ دیگر، کم ضرر رساں ہو اُس کو گوارا کرلے تا کہ وہ زیادہ بڑے شر سے بچ سکے۔

تحمل کی طاقت

ایک شہر کے دو آدمیوں میں اَن بن تھی۔ ایک دن ایسا ہوا کہ دونوں کی ملاقات ایک سڑک پر ہوئی۔ مسٹر الف دیکھتے ہی مسٹر ب پر برس اُٹھے۔ اُن کے پاس جتنے سخت الفاظ تھے وہ سب اُنہوں نے مسٹر ب پر خرچ کر ڈالے۔ مسٹر ب خاموش ہو کر اُن کی بات سنتے رہے۔ مسٹر الف دیر تک بولنے کے بعد جب چُپ ہوئے تو مسٹر ب نے کسی ردِّ عمل کے بغیر بالکل نارمل انداز میں مسٹر الف سے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ تھک گئے ہیں، آئیے ریستوراں میں چل کر چائے پیئیں۔ اس کے بعد دونوں قریب کے چائے خانہ میں گئے۔ چائے پیتے پیتے مسٹر الف کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ آخر میں مسٹر الف نے مسٹر ب سے معافی مانگی اور یہ وعدہ کیا کہ آئندہ وہ کبھی کسی کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے۔ جب کوئی شخص اشتعال انگیز بات کرے تو عام طور پر سننے والا غصہ ہو جاتا ہے۔ وہ جوابی اشتعال کے ذریعہ اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ طریقہ آگ کو آگ کے ذریعہ بجھانے کے ہم معنی ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آگ کو پانی کے ذریعہ بجھایا جائے ۔ غُصہ کا جواب ضبطِ تحمل کے ذریعہ دینے کی کوشش کی جائے۔ تحمل صرف ایک اخلاقی صفت نہیں، اس سے بڑھ کر تحمل ایک طاقت اور تدبیر ہے۔ اشتعال کے جواب میں جب آپ غصہ ہو جائیں تو آپ اپنی سب سے بڑی صلاحیت، یعنی عقل کو کھو دیتے ہیں۔ آپ اس قابل نہیں رہتے کہ آپ اپنی عقل کو استعمال کر کے گہرائی کے ساتھ معاملہ کو سمجھیں اور زیادہ کار گر انداز میں اپنا دفاع کریں۔ غضب ناک آدمی صرف منفی ردِّ عمل کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی غصہ دلانے کے باوجود غصہ نہ ہو وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ غصہ کے جواب میں مثبت عمل کا ثبوت دے سکے، اور مثبت عمل بلا شبہ منفی عمل کے مقابلہ میں ہزار گنا زیادہ مؤثر اور کامیاب ہے۔ ذہنی سکون موجودہ زمانہ کا شاید سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آج کسی بھی انسان کو ذہنی سکون حاصل نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page