تحمل کی طاقت
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۶۵
تقریباً ہر آدمی ذہنی تناؤ اور فکری الجھن میں مبتلا ہے۔ خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ سامان والا ہو یا بے سرو سامان والا۔ پچھلے سال بنگلور کے ایک کمپیوٹر انجینئر کو اس کی ایک ایجاد پر امریکہ کی طرف سے 750 ملین ڈالر اچانک مل گئے۔ مگر اس غیر معمولی دولت نے اس کو ذہنی پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ یہاں تک کہ صرف ایک سال کے اندر اس کا یہ حال ہوا کہ اس کی نیند ختم ہو گئی اور رات کے وقت وہ نیند کی گولیاں کھا کر سونے لگا۔ موجودہ دنیا کے بیشتر لوگوں کا حال کم و بیش یہی ہے، خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے ۔ اس مسئلہ کا عام طور پر حل بتایا جاتا ہے۔ ایک یہ کہ زیادہ سے زیادہ دولت کماؤ تا کہ زیادہ سے زیادہ راحت کے سامان حاصل کر سکو۔ مگر تجربہ واضح طور پر اس کی تردید کرتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے بے شمار دولت کمائی اور راحت اور آرام کے تمام سامان اپنے پاس اکٹھا کر لئے۔ مگر ان سب کے باوجود وہ سکون اور چین سے محروم رہے یہاں تک کہ وہ مر کر اس دنیا سے چلے گئے۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے معیار پسند (perfectionist) ہے۔ جب کہ موجودہ دنیا ہر اعتبار سے غیر معیاری (imperfect) ہے۔ اس صورت حال نے انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان ایک تضاد پیدا کر دیا ہے۔ اسی تضاد کا یہ نتیجہ ہے کہ کوئی انسان ہر قسم کے دنیوی سامان کو حاصل کرنے کے باوجود مطمئن نہیں ہوتا۔ دنیا کی ہر چیز اس کو اپنے ذہنی معیار سے کم تر معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے وہ ان کو پا کر بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ بظاہر راحت کے سامان کے درمیان بھی وہ ہمیشہ ایک قسم کے غیر شعوری عدم اطمینان میں مبتلا رہتا ہے۔ فطرت کا یہ قانون ثابت کرتا ہے کہ دنیوی راحت کے سامانوں میں ذہنی سکون تلاش کرنا ایک ایسا بے سود عمل ہے جو کبھی کارآمد بننے والا ہی نہیں۔ دوسرا حل وہ ہے جو خاص طور سے یوگا کے مبلغین کی طرف سے بتایا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے ملک کے اندر اور ملک کے باہر بہت سے میڈیٹیشن سینٹر قائم کئے ہیں۔ یہاں دھیان اور میڈیٹیشن کے ذریعہ لوگوں کو ذہنی سکون کی تربیت دی جاتی ہے۔ اُن کا طریقہ یہ ہے کہ مخصوص مراقبہ کے ذریعہ انسانی ذہن میں سوچ کے عمل کو معطل کر دیا جائے تاکہ وہ پریشانی کو شعوری طور پر محسوس کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔ مگر اس قسم کا ذہنی سکون حقیقتاً ذہنی تخدیر (mental anesthesia)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues