ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۲
بتائیں کہ اگر انڈیا نے اے ۱۹ میں ہمارے ملک کو دو ٹکڑے کیا تو ہم بھی اس سے پہلے ۱۹۴۷ میں ان کے ملک کو دو ٹکڑے کر چکے تھے۔ اس لیے اب معاملہ برابر ہوگیا۔ لہذا اب ماضی کی بات کو چھوڑو، اب اپنی ساری توجہ مستقبل کی تعمیر میں لگا دو۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو بہت مشکل فارمولا ہے۔ میں نے کہا کہ جاپان نے دوسری عالمی جنگ کے بعد اسی مشکل فارمولا کا استعمال کیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اقتصادی سپر پاور بن گیا۔ کسی بڑی ترقی کا راز ہمیشہ مشکل فارمولا میں ہوتا ہے، نہ کہ آسان فارمولا میں۔
۱۹۴۷ میں ڈھاکہ صرف ایک قصبہ کی مانند تھا۔ آج ڈھاکہ بہت بڑا شہر ہے جو صاف ستھری سڑکوں اور خوبصورت مکانات کی صورت میں کھڑا ہوا ہے۔ ہریالی کی کثرت نے اس کی شان میں اور زیادہ اضافہ کیا ہے۔ تا ہم یہاں امیر و غریب کا فرق ہندوستان سے زیادہ نمایاں ہے۔ یہاں کی سڑکوں پر چلتے ہوئے یہ بات نہایت واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔ سڑکوں پر یا تو بڑی بڑی شاندار گاڑیاں نظر آئیں یا پھر اسکوٹر اور سائیکل رکشا دکھائی دئے۔ ایک صاحب سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں یا بہت زیادہ امیر لوگ ہیں یا بہت زیادہ غریب لوگ۔ یہاں کی آبادی میں درمیانی لوگ کم پائے جاتے ہیں۔
ایک تجربہ گزرا۔ اس سے ایک نفسیاتی حقیقت میری سمجھ میں آئی۔ وہ یہ کہ انسان کے دماغ میں پیدائشی طور پر ہر صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ مگر وہ صرف اس وقت متحرک ہوتی ہے جب کہ کوئی طاقتور جذبہ اس کو متحرک کرنے کے لئے موجود ہو۔ یہ طاقتور جذبہ دو میں سے کوئی ایک ہوسکتا ہے، یا تو کسی چیز کا بہت زیادہ ڈر یا کسی چیز کا بہت زیادہ شوق۔ ڈھاکہ میں ایک اسلام پسند مسلمان سے ایک سیکولر مسلمان کا ذکر ہوا۔ اسلام پسند مسلمان نے فوراً کہا کہ وہ تو اسلام دشمن آدمی ہیں۔ اس کے بعد جب سیکولر مسلمان سے مذکورہ اسلام پسند کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ وہ تو انسانیت دشمن آدمی ہیں۔ یہی صورت حال آج پوری مسلم دنیا میں موجود ہے۔ آج کی دنیا کے تقریباً تمام مسلمان وسیع تقسیم میں دو خیموں میں بٹے ہوئے ہیں۔ سیکولر
‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues