Al-Risala · July 2002 · page 66

تحمل کی طاقت

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۶۶

کے ہم معنی ہے۔ یہ انسان کی اعلیٰ فکری صلاحیت کو کند کرکے اس کو بے حس حیوان کی سطح پر پہنچا دیتا ہے۔ اس قسم کا ذہنی سکون، اگر بالفرض حاصل بھی ہو جائے تب بھی وہ یقینی طور پر غیر مطلوب چیز ہے۔ کیوں کہ جو چیز انسان کی اعلیٰ فکری صلاحیت کو دبا دے وہ گویا انسان کو کو ما (coma) کی حالت میں پہنچاتا ہے۔ ایسا ذہنی سکون انسانی موت ہے، نہ کہ انسانی زندگی۔

میڈیٹیشن (meditation) کا طریقہ فطرت کے نظام کی تردید ہے فطرت نے انسان کو جو سب سے اعلیٰ چیز دی ہے وہ اس کا دماغ (mind) ہے فطرت کے نقشے کے مطابق، دماغ کے لئے پریشانیوں کا پیش آنا کوئی برائی کی بات نہیں ۔ یہ دراصل زحمت میں رحمت (blessing in disguise) ہے۔ فطرت نے انسان کی ذہنی ترقی کے لئے شاک ٹریٹمنٹ کا طریقہ رکھا ہے۔ ایسی حالت میں شاک ٹریٹمنٹ کے عمل کو ختم کرنا انسان کے لیے اُس کی ذہنی ترقی کے دروازہ کو بند کرنا ہے۔ اس اعتبار سے یہ طریقہ فطرت کے نظام کے خلاف ہے اور جو چیز فطرت کے نظام کے خلاف ہو وہ اپنے آپ قابل رد ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی پریشانی (mental tension) کے مسئلہ کا حل ذہنی پریشانی کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ اس کو مینیج (manage) کرنا ہے۔ فکری تدبیر کے ذریعہ اس کو اس طرح غیر مؤثر کر دینا ہے کہ وہ عملاً تو انسان کے لئے پیش آئے مگر وہ انسان کے ذہنی سکون کو برہم (disturb) نہ کر سکے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے ۔ دہلی میں ایک ۳۰ سالہ نوجوان ہیں جو ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں مینیجر ہیں۔ ان کو وہاں ۷۵ ہزار روپیہ مہینہ ملتا ہے اور دوسری سہولتیں حاصل ہیں۔ مگر چونکہ ان کمپنیوں میں ہائر اینڈ فائُر کا اصول ہے، اس لئے وہ ہمیشہ ذہنی پریشانی میں مبتلا رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو ہمیشہ سروس سے محرومی کا اندیشہ (fear of loosing job) ستاتا رہتا ہے، نہ دن کو سکون رہتا ہے اور نہ رات کو۔ میں نے انہیں سمجھایا اور کہا کہ میں آپ کو ایک فارمولا دیتا ہوں، اگر آپ اس کو پکڑ لیں تو آپ کا ذہنی سکون کبھی برہم ہونے والا نہیں ـــــ ایک شخص آپ کا روزگار چھین سکتا ہے مگر وہ کبھی آپ کی قسمت کو آپ سے چھین نہیں سکتا :

One can take away your job. But no one has the power to take away your destiny.

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page