Al-Risala · July 2002 · page 67

تحمل کی طاقت

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۶۷

مذکورہ نوجوان نے اس فارمولا کو پکڑ لیا۔ کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ ملے اور انہوں نے کہا کہ اب مجھے پوری طرح ذہنی سکون حاصل ہو گیا ہے۔ اب میں اطمینان کے ساتھ سوتا ہوں اور اطمینان کے ساتھ دن گزارتا ہوں۔ اسی طرح ہر آدمی اپنی ذہنی پریشانی کو پہنچ کر کے اس کو ڈیفیوز کر سکتا ہے۔ وہ ذہنی پریشانیوں کے باوجود ذہنی سکون کی زندگی حاصل کر سکتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ اپنی اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں سے محروم ہوا ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان کا دماغ اتھاہ صلاحیتوں کا خزانہ ہے۔ تمام ذہنی پریشانیوں کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال نہ کر سکنا۔ اسی طرح تمام ذہنی پریشانیوں کا حل بھی صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروقت استعمال کر لینا ۔ ایک بڑے شہر کے ایک تاجر ہیں۔ انہوں نے ایک سامان (production) تیار کیا۔ اس میں انہوں نے پچاس لاکھ روپے لگا دیئے ۔ سامان جب تیار ہوا تو اس کے بعد اچانک مارکیٹ میں اس کی مانگ ختم ہوگئی۔ مجبوراً انہیں اپنے سامان کو گودام میں رکھ دینا پڑا۔ اس حادثہ کا اُن پر اتنا زیادہ اثر ہوا کہ وہ بیمار پڑ گئے ۔ ان کا بلڈ پریشر بڑھ گیا۔ راتوں کی نیند غائب ہو گئی۔ وہ اعصابی کمزوری کا شکار ہو گئے۔ اُن سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں سمجھایا۔ میں نے کہا کہ آپ اس معاملہ کو صرف حال (present) کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ آپ اپنی اس سوچ کو بدل لیجے اور معاملہ کو مستقبل (future) کے اعتبار سے دیکھنا شروع کر دیجئے ۔ آپ سادہ طور پر صرف اتنا کیجئے کہ اس معاملہ کو انتظار (wait and see) کے خانہ میں ڈال دیجئے ۔ انہوں نے میری نصیحت پکڑ لی۔ اس کے تقریباً دو سال بعد اُن کا خط آیا جس میں انہوں نے خوشی کے ساتھ لکھا تھا کہ میرا تمام سامان نفع کے ساتھ فروخت ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز کا انحصار سوچنے کے طریقہ پر ہے۔ اگر آپ ایک طریقہ سے سوچیں تو آپ کا ذہن ایک ڈھنگ کا بنے گا اور اگر آپ دوسرے طریقہ سے سوچیں تو آپ کا ذہن دوسرے ڈھنگ پر کام کرنے لگے گا۔ اس طرح ہر مایوسی کو اعتماد میں بدلا جا سکتا ہے اور ہر پست ہمتی کو بلند ہمتی میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page