آئیڈیل یا پریکٹیکل
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۶۸
آئیڈیل یا پریکٹیکل
اکثر لوگ صرف اس لیے نقصان اٹھاتے ہیں کہ وہ آئیڈیل اور پریکٹیکل میں فرق نہیں کرتے۔ وہ چیزوں کو آئیڈیل کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں اور جب وہ اُن کے آئیڈیل پر پورا نہیں اُترتا تو وہ اُن کو رد کر دیتے ہیں۔ مگر یہ سراسر نادانی کی بات ہے۔ موجودہ دنیا میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو آئیڈیل ملے۔ بیشتر حالات میں اس دنیا میں پریکٹیکل پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ یہ کوئی کم ہمتی کی بات نہیں، یہ فطرت کا قانون ہے اور اس دنیا میں فطرت کے قانون کو قبول کرنا پڑتا ہے، نہ کہ اُس سے ٹکرانا۔ یہ اصول انفرادی زندگی کے لیے بھی کارآمد ہے اور اجتماعی زندگی کے لیے بھی۔
اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو نئے انقلابی تصورات دنیا میں رائج ہوئے اُن میں سے ایک وہ تھا جس کو سیکولرزم (secularism) کہا جاتا ہے۔ یہ نیا سیاسی نظریہ جب دنیا میں آیا تو موجودہ زمانہ کے اسلام پسند رہنماؤں نے اُس کو رد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکولرزم اسلام کے خلاف ہے، بلکہ وہ اسلام سے اصولی بغاوت ہے۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر انہوں نے سیکولرزم کا ترجمہ لادینیت کیا۔ حالانکہ یہ ترجمہ ہرگز درست نہیں۔
موجودہ زمانہ میں مسلم ملکوں میں ہر جگہ مغربی طرز پر تعلیم پائے ہوئے لوگ حکومت کر رہے تھے۔ وہ سیکولر نظام حکومت کے حامی تھے۔ اس بنا پر تمام اسلام پسندوں نے اُن کے خلاف نظری اور عملی جنگ چھیڑ دی۔ ہر مسلم ملک کے مسلمان سیکولر طبقہ اور اسلام پسند طبقہ میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگے۔ اس بے فائدہ جنگ میں مسلمانوں کو اتنا زیادہ نقصان پہنچا جو پوری مسلم تاریخ میں شاید مسلمانوں کو نہیں پہنچا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم کوئی مذہبی عقیدہ نہیں۔ سیکولرزم کا مطلب لامذہبیت نہیں بلکہ مذہب کے بارے میں غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کرنا ہے۔ یہ ایک عملی تدبیر ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مذہبی نزاع سے بچتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی امور میں مشترک بنیاد پر ملک کا نظام چلایا جائے۔ یہ سیکولرزم اسلام اور اہل اسلام کے حق میں انتہائی مفید تھا۔ وہ لوگوں کو یہ موقع دے رہا تھا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues