Al-Risala · July 2002 · page 69

آئیڈیل یا پریکٹیکل

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۶۹

مسلم اور غیر مسلم دونوں قسم کے ملکوں میں یکساں طور پر اسلام کے مقاصد کے لیے عمل کیا جاسکے۔ مدارس و مساجد کی تنظیم، تعمیری اداروں کا قیام، تعلیم و تربیت، دعوت و تبلیغ، اس قسم کے تمام شعبے مکمل طور پر اہل اسلام کے لیے کھلے ہوئے تھے۔ وہ اُن کو استعمال کرکے ہر ملک میں اسلام کا ایمپائر بنا سکتے تھے۔ یہ ایمپائر اگر چہ غیر سیاسی ہوتا مگر وہ بالواسطہ انداز میں سیاسی نظام پر بھی اثر انداز ہو سکتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما سیکولرزم کو آئیڈیل کے معیار پر جانچ کر اُس کے دشمن بنے رہے۔ حالانکہ اگر وہ عملی (پریکٹیکل) بنیاد پر اُس کو دیکھتے تو وہ اُس کو خدا کی ایک نعمت سمجھتے اور ایک عظیم موقع کی حیثیت سے اُس کو استعمال کرتے۔

اس معاملہ کا ایک اور اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان ہے۔ سیکولرزم کو لادینی اور طاغوتی نظریہ قرار دے کر اُس سے لڑنا سراسر غیر حقیقت پسندانہ تھا۔ وہ فطرت کے نظام کے خلاف تھا۔ وہ پریکٹیکل بنیاد پر چلنے والی دنیا میں آئیڈیل بنیاد پر زندگی گزارنے کا غیر عملی پروگرام تھا۔ اس لیے وہ فطری طور پر نا کام ہو گیا۔ اب یہی لوگ عملاً ساری دنیا میں عین اُسی سیکولر نظام کے تحت پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں جس کو انہوں نے اس سے پہلے غیر اسلامی قرار دے کر رد کر دیا تھا اور اس کے تحت زندگی گزارنے کو ناجائز بتایا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس سیکولرزم کو وہ اصولی طور پر اختیار نہ کر سکے تھے اُس کو انہوں نے منافقانہ طور پر اختیار کر لیا۔ دو عملی کی یہ روش بلاشبہ تمام برائیوں میں سب سے زیادہ بڑی برائی ہے۔ مقصد کی حفاظت قرآن کی سورہ نمبر ۲۲ میں ارشاد ہوا ہے: اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک طریقہ مقرر کیا کہ وہ اس کی پیروی کرتے تھے۔ پس وہ اس معاملہ میں تم سے نزاع نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ یقیناً تم سیدھے راستہ پر ہو۔ (الحج ۶۷)

وہ تم سے نزاع نہ کریں، کا مطلب یہ ہے کہ تم اُن کو نزاع کا موقع نہ دو۔ فریق ثانی سے نزاع میں پڑنے کی قیمت یہ ہے کہ دعوت کا موضوع بدل جائے۔ اس کے برعکس نزاع سے اعراض کا یہ فائدہ ہے کہ دعوت کا اصل نکتہ دونوں کے درمیان زیر بحث رہے۔ داعی کے مفاد میں یہ ہے کہ امر رب دونوں

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page