آئیڈیل یا پریکٹیکل
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۷۰
فریقوں کے درمیان مکالمہ (dialogue) کا موضوع ہو، نہ کہ امر غیر رب۔ باہمی مکالمہ کو اصل نکتہ سے ہٹنے نہ دینا داعی کے مفاد میں ہے اس لیے داعی کو یہ قیمت دینا ہے کہ وہ یک طرفہ اعراض کے ذریعہ اس موافق صورت حال کو برقرار رکھے۔
مولانا محمد الیاس صاحب (بانی تبلیغی جماعت) اپنی تحریک کے ابتدائی زمانہ میں میوات گئے۔ ایک دیہاتی اپنے کھیت کے کنارے کھڑا ہوا تھا۔ مولانا نے اُس سے کلمہ پڑھنے کے لیے کہا۔ یہ دیہاتی اس قسم کی بات سے مانوس نہ تھا۔ وہ غصہ ہو گیا اور مولانا کو دھکیل دیا۔ مولانا زمین پر گرپڑے۔ اس کے بعد مولانا خاموشی کے ساتھ دوبارہ اُٹھے اور کسی بھی شکایت کے بغیر انہوں نے دیہاتی سے کہا کہ میں بھی کلمہ پڑھتا ہوں اور تم بھی اُس کو دہراؤ۔
مولانا محمد الیاس صاحب کی یہ مثال مذکورہ معاملہ کو اچھی طرح واضح کرتی ہے۔ مولانا الیاس صاحب اگر مذکورہ دیہاتی کی غلط روش کی شکایت کرتے تو موضوع گفتگو بدل جاتا۔ انہوں نے اُس کی اس روش کو یکسر نظر انداز کیا تا کہ دونوں کے درمیان صرف دین ہی موضوع بحث رہے، کوئی غیر متعلق چیز اس میں حائل نہ ہو سکے۔
اس طرح کے معاملہ میں سوچنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ فریق ثانی کی زیادتیوں کو اہمیت دینا اور اس کے خلاف شکایت واحتجاج کرنا۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ فریق ثانی کی زیادتی کو نظر انداز کیا جائے اور اُس کو صبر واعراض کے خانہ میں ڈال دیا جائے۔ پہلی روش کا نقصان یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان موضوع بحث بدل جاتا ہے۔ جب کہ دوسرے طریقہ کا فائدہ یہ ہے کہ موضوع بحث کا سلسلہ نہیں ٹوٹتا۔ اصل قابل بحث نکتہ ہی دونوں کے درمیان بلا انقطاع بحث کا موضوع بنارہتا ہے۔ معاملہ برابر ہو گیا دوسری عالمی جنگ میں امریکہ اور جاپان ایک دوسرے کے حریف تھے۔ دونوں ایک دوسرے کو نقصان پہنچارہے تھے۔ اس کا خاتمہ اس طرح ہوا کہ امریکہ نے ۱۹۴۵ء میں جاپان کے اوپر دو ایٹم بم گرادیئے۔ اس کے نتیجہ میں جاپان کے دو صنعتی شہر تباہ ہوگئے۔ اس واقعہ نے عام جاپانیوں کو سخت
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues