آئیڈیل یا پریکٹیکل
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۷۱
غصہ کر دیا، وہ امریکہ سے انتقام کی باتیں کرنے لگے۔
یہ ایک بے حد نازک موقع تھا۔ جاپان اگر انتقام کے راستہ پر چلتا تو وہ اُس کے لیے صرف مزید تباہی کا سبب بنتا۔ مگر اْس وقت جاپان کے رہنماؤں اور دانشوروں نے ایسی باتیں کیں جنہوں نے جاپانیوں کے ذہن کو منفی رخ سے ہٹا کر مثبت رُخ پر ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۴۵ میں اگر امریکہ نے ہمارے شہر (ہیروشیما اور ناگاساکی) کو تباہ کیا ہے تو ہم بھی اس سے پہلے ۱۹۴۱ء میں اُن کے بحری مرکز پرل ہاربر کو تباہ کر چکے ہیں۔ اس طرح دونوں کے درمیان معاملہ برابر ہوگیا۔ اب تم اس کو بُھلا دو اور جاپان کی نئی تعمیر میں لگ جاؤ۔ اس متوازن سوچ کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان چالیس سال کے اندر پہلے سے بھی زیادہ طاقتور مُلک بن گیا۔
جب بھی دو فریقوں کے درمیان نزاع کی صورت پیدا ہوتی ہے تو ہر فریق کی سوچ یک طرفہ رُخ پر چلنے لگتی ہے۔ ہر فریق یک طرفہ طور پر صرف دوسرے فریق کی زیادتیوں کو یاد رکھتا ہے اور اْس کو بیان کرتا ہے۔ اس طرزِ فکر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی سوچ غیر متوازن ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے حصہ کی زیادتی کو بھلا کر صرف دوسرے کے حصہ کی زیادتی کو یاد رکھتے ہیں۔ سوچنے کا یہ طریقہ ہمیشہ تباہ کُن ثابت ہوتا ہے، افراد کے لیے بھی اور قوموں کے لیے بھی۔ اس غیر متوازن طرزِ فکر کو قرآن میں تطفیف کہا گیا ہے اور اْس پرویل کی خبر دی گئی ہے (المطففین (۱-۶)۔ نزاعی معاملات میں غیر متوازن طرزِ فکر ہمیشہ تباہی کا سبب بنتا ہے، اور متوازن طرزِ فکر ہمیشہ ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔ سیاق و سباق کی اہمیت کسی بات پر کو صحیح طور سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس کے سیاق (context) کو سامنے رکھا جائے ۔ اس معاملہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اگر سیاق کو بدل دیا جائے تو سارا مفہوم ہی بدل جائے گا۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے۔ راقم الحروف کی کتاب تذکیر القرآن پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب نے لکھا ہے:
”مولانا وحید الدین کے نظریات سے اختلاف الگ بات ہے۔ اور مولانا کے اس نظریہ کو کہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues