آئیڈیل یا پریکٹیکل
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۷۲
ہندوستانی مسلمان ہندوستان میں بے مسائل (بے حقوق) ہو کر رہیں گے تو انہیں اس ملک میں امن نصیب ہوگا، ورنہ نہیں ہوگا۔ اس نظریہ کو آنے والا مورخ پسپائی، ہزیمت اور بزدلی کے کون سے درجہ میں رکھے گا، یہ وہی جانیں‘‘۔ (علماء دیوبند کی تفسیری خدمات، صفحہ ۴۹) اس تنقیدی ریمارک میں میری کوئی عبارت نقل نہیں کی گئی ہے۔ بلکہ بطور خود کچھ الفاظ لکھ کر اُن کو میرا نظریہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ طریقہ سراسر غیر علمی ہے۔ اس اقتباس میں میرا جو نظریہ بتایا گیا ہے وہ میرا نظریہ ہی نہیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ مسلمان اس ملک میں داعی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اُن کے مقابلہ میں برادرانِ وطن کی حیثیت مدعو کی ہے۔ یعنی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان جو رشتہ ہے وہ قومی حریف کا رشتہ نہیں ہے بلکہ وہ داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔
دو قوموں کے درمیان اگر حریف اور رقیب کا رشتہ ہو تو اسی کے مطابق اُن کے تعلقات قائم ہوں گے۔ ایسی حالت میں اگر ایک قوم دوسری قوم کے خلاف اپنے دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبہ کی مہم چلائے تو وہ بالکل درست ہوگی۔ مثلاً پسماندہ طبقہ کی طرف سے اونچی ذات کے لوگوں کے خلاف یا محنت کش طبقہ کی طرف سے سرمایہ دار طبقہ کے خلاف حقوق طلبی کی مہم۔ ایسے کسی گروہ کے لیے اس قسم کی مہم چلانے کا معیار اُن کے لیے صرف ملکی قانون اور ملکی دستور ہے۔ اب چونکہ ملکی قانون اور ملکی دستور اس قسم کی مہم کی اجازت دیتا ہے اس لیے وہ اُن گروہوں کے لیے جائز مہم قرار پائے گی۔ مگر اہل اسلام کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اہل اسلام کے لیے صرف وہ مسلک درست ہے جو قرآن وسنت کے مطابق درست ہو۔ اور وہ مسلک غلط ہے جو قرآن وسنت سے غلط قرار پائے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن وسنت کے معیار کے مطابق، اہل اسلام کی حیثیت داعی کی ہے اور بقیہ قوموں کی حیثیت مدعو کی۔ یہ تعلق بے حد نازک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل اسلام کی حیثیت دینے والے گروہ (giver group) کی ہے اور دوسری قوموں کی حیثیت لینے والے گروہ (taker group) کی ۔
داعی اور مدعو کے اس رشتہ کا تقاضا ہے کہ اہل اسلام اپنے مسائل کے لیے احتجاج اور مطالبات
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues