حافظہ کا مسئلہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۷۳
کا طریقہ نہ اختیار کریں، کیوں کہ اس سے داعی اور مدعو کے درمیان دعوت کی معتدل فضا باقی نہیں رہتی۔ اس نازک رشتہ کا تقاضہ ہے کہ اہل اسلام اپنے مسائل کو خود اپنی کوشش سے حل کریں۔ اس وضاحت سے اندازہ ہوتا ہے کہ راقم الحروف نے جو بات دعوت کے سیاق میں کہی تھی اُس کو اُس کے سیاق سے ہٹا کر دوسرے غیر متعلق سیاق سے جوڑ دیا گیا۔ اس طرح کلام کا اصل منشا ء بالکل بدل کر رہ گیا۔
حافظہ کا مسئلہ
ایک صاحب ہیں جو اپنے ماضی کی بعض تلخ یادوں کی وجہ سے سخت پریشان رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کی وجہ سے اُن کی صحت خراب ہو گئی ہے۔ اُن کے سامنے میں نے ایک اُردو شاعر کا ایک شعر پڑھا۔ وہ شعر یہ تھا:
یاد ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
انہوں نے اس شعر کو سنتے ہی کہا کہ بہت خوبصورت شعر ہے۔ اُن کا تبصرہ سن کر میں نے کہا کہ میرے نزدیک تو یہ بہت بدصورت شعر ہے۔ پھر میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حافظہ ایک عظیم نعمت ہے۔ حافظہ ہی کی وجہ سے ہم چیزوں کو جانتے ہیں اور پہچانتے ہیں۔ اگر یہ دعاء قبول ہو جائے اور آدمی کا حافظہ ختم ہو جائے تو وہ بظاہر ایک انسان ہوگا مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ بھیڑ بکری سے بھی بدتر ہو جائے گا۔ میں کئی ایسے آدمیوں کو جانتا ہوں جن کا حافظہ بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے ختم ہو گیا تھا۔ اُن کا حال یہ ہوا کہ وہ نہ کچھ بول سکتے تھے اور نہ کسی کو پہچانتے تھے۔ وہ بے بسی کی حالت میں چند سال اسی طرح زندہ رہے اور پھر مر گئے۔
اس معاملہ میں سوچنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی حافظہ کو ختم کرنے کے بجائے حافظہ کی ناخوش گوار باتوں کو خوش گوار بنانے کی کوشش کرے۔ وہ اُن کا تجزیہ کر کے انہیں اپنے لیے غیر مؤثر بنا دے۔ مثلاً ایک شخص کے اوپر کسی آدمی کا قرض ہے۔ وہ قرض نہیں دے پا رہا ہے اور اس بنا پر وہ غم میں گھل رہا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ قرض اور قرض کے غم کو ایک دوسرے سے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues