Al-Risala · July 2002 · page 74

یاد ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۷۴

الگ کردے۔ وہ قرض کی ادائیگی کی تدبیر کرے مگر وہ قرض کو اپنا غم نہ بنائے۔ وہ اپنے آپ کو اس سے بچائے کہ قرض کے مسئلہ کے ساتھ ایک اور مسئلہ اُس کی زندگی میں شامل ہو جائے اور وہ ذہنی ٹینشن (mental tension) ہے۔ جب کہ ٹینشن کا مسئلہ بلاشبہ قرض کے مسئلہ سے زیادہ شدید ہے۔ قرض کا مسئلہ اگر صرف مسئلہ ہے تو ٹینشن ایک قسم کی ذہنی خودکشی۔ کامیاب زندگی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اس نادانی سے بچائے کہ وہ ایک چھوٹے مسئلہ کو اپنے لیے زیادہ بڑا مسئلہ بنا لے۔ قناعت، ترقی اکثر خبریں آتی ہیں کہ فلاں بڑی کمپنی دیوالیہ ہوگئی۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ بڑی بڑی کمپنیاں دیوالیہ پن (Bankruptcy) کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی طاقت سے زیادہ بڑی چھلانگ لگانا۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کمپنی کے پاس ذاتی سرمایہ صرف چند ملین ڈالر ہے، مگر وہ ایک ایسے صنعتی کاروبار کا منصوبہ بناتی ہے جس کو قائم کرنے کے لیے کئی بلین ڈالر درکار ہیں۔ اب وہ بینک سے سودی قرض لیتی ہے۔ یہ قرض سود کے ساتھ قسطوں میں ادا کیا جاتا ہے۔ اب اگر کمپنی کی آمدنی حسب اندازہ جاری رہے تو قرض کی قسطیں بھی ادا ہوتی رہیں گی۔ لیکن اگر کسی وجہ سے آمدنی میں خلل پڑ جائے تو کمپنی اس قابل نہ رہے گی کہ وہ قرض کی قسطوں کو ادا کر سکے۔ اسی توازن کے ٹوٹنے کا نام دیوالیہ پن ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر مادہ پرست انسان کو کسی نہ کسی صورت میں پیش آتا ہے۔ یہ مسئلہ کیوں پیدا ہوتا ہے۔ اس کا ایک نہایت گہرا سبب ہے۔ ہر آدمی پیدائشی طور پر زیادہ کی طلب رکھتا ہے۔ اپنی طلب میں کسی حد پر رکنا انسانی مزاج کے خلاف ہے۔ یہی وہ فطری مزاج ہے جو مذکورہ مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ مادی طرز فکر میں اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں۔ جو آدمی مادی کامیابی کی اصطلاحوں میں سوچتا ہو وہ کبھی اس کمزوری سے بچ نہیں سکتا۔ اُس سے یہ کہنا کہ تم ایک مادی حد پر رک جاؤ، اُس کے مزاج کے خلاف ہے۔ اس لیے وہ قابل عمل بھی نہیں۔

اس معاملہ میں قابلِ عمل فارمولہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے آخرت پسندانہ سوچ۔ آخرت پسندی کے مطابق، اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ آدمی دنیا میں بقدر ضرورت پر راضی ہو جائے اور آخرت میں بقدر

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page