Al-Risala · July 2002 · page 75

Reconciliation is the best.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۷۵

شوق طلب گار ہو۔ یعنی دنیا میں ضرورت کو کافی سمجھنا، اور زیادہ کی طلب کا رُخ آخرت کی طرف کر دینا۔ مختصر الفاظ میں، اس کا فارمولا یہ ہے ــــ دنیا میں محدود پر راضی ہونا اور لامحدود کو آخرت میں چاہنا۔ یک طرفہ ایڈجسٹمنٹ جب بھی دو آدمیوں یا دو گروہوں کے درمیان کوئی نزاع پیدا ہو تو ہر فریق کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ دوسرے فریق سے اپنی بات منوائے، وہ دوسرے فریق سے اپنے مزعومہ حق کو وصول کرے۔ مگر یہ طریقہ سراسر غیر فطری ہے۔ اس طریقہ کا واحد انجام یہ ہے کہ وقتی مسئلہ ایک لامتناہی مسئلہ بن جائے۔ مزید یہ کہ اصل مسئلہ تو ختم نہ ہو اور نئے مسئلے پیدا ہو کر معاملہ کو پیچیدہ سے پیچیدہ تر بنا دیں۔ نزاعی مسئلہ کا کامیاب حل صرف ایک ہے ۔ اور وہ یک طرفہ مفاہمت (unilateral adjustment) ہے۔ دونوں میں سے جو فریق پہلے یک طرفہ مفاہمت پر راضی ہو جائے وہی ہمیشہ کا کامیاب ہوتا ہے۔ اور جو فریق راضی نہ ہو اُس کو ہمیشہ یہ قیمت دینی پڑتی ہے کہ وہ معاملہ کے اُس خاتمہ پر ذلت کے ساتھ راضی ہو جس پر ابتدائی مرحلہ میں عزت کے ساتھ سمجھوتہ ہو سکتا تھا مگر اُس وقت اُس نے سمجھوتہ نہیں کیا۔ قرآن میں اس اُصول کو دو لفظ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: والصلح خير (النساء ١٢٨) یعنی صلح بہتر ہے:

Reconciliation is the best.

قرآن میں یہ آیت ازدواجی نزاع کے ذیل میں آئی ہے۔ مگر یہ ایک عمومی اصول ہے، اور اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔ صلح(reconciliation) کا اُلٹا لفظ جنگ ہے۔ جنگ کی نفسیات یہ ہے کہ ہر آدمی دوسرے کو زیر کر کے اپنا حق وصول کرنا چاہتا ہے۔ اس کے برعکس صلح کا طریقہ دو اور لو (give and take) کے اصول پر قائم ہے۔ اس دوسرے طریقہ میں ہر فریق یہ کوشش کرتا ہے کہ ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے اور پُرامن بات چیت کے ذریعہ دوطرفہ رضامندی سے مسئلہ حل ہو جائے۔

جنگ کے طریقہ میں ہر فریق کی نظر موجود پر ہوتی ہے۔ یعنی جو چیز سامنے موجود ہے اُس پر

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page