ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۳
خیمہ اور اسلامی خیمہ۔ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں مبالغہ آمیز قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی کسی کا دشمن نہیں۔ یہ صرف طرزِ فکر کا مسئلہ ہے۔ ایک طبقہ روایتی اصطلاحوں میں سوچتا ہے اور دوسرا طبقہ غیر روایتی اصطلاحوں میں۔ اور بالفرض اگر ان میں سے کوئی کسی کا دشمن ہو تب بھی قرآن کی ہدایت کے مطابق، ہمارا طریقہ یہ ہونا چاہئے کہ ہم بدگمانی میں پڑے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ سنجیدہ ڈسکشن کریں۔ اتفاق اور اختلاف سے بلند ہو کر ایک دوسرے کے بارے میں ہمدردانہ رائے قائم کریں۔
ڈاکٹر محمد نصیر الدین صاحب (پیدائش ۱۹۴۹) سے ۳ جون کی صبح کو ملاقات ہوئی۔ وہ اسلامک یونیورسٹی بنگلہ دیش میں اسلامک اسٹڈیز کے شعبہ میں استاد ہیں۔ یہ یونیورسٹی اب کشتیا میں ہے۔ آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس (OIC) کے تحت تین یونیورسٹیاں قائم ہوئی تھیں ۔ ایک بنگلہ دیش میں، دوسری اسلام آباد میں اور تیسری کوالالمپور میں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں کی اسلامک اسٹڈیز کا شعبہ انڈیا سے کچھ مختلف ہے۔ انڈیا میں اسلامک اسٹڈیز کے شعبہ میں اسلام کی ہسٹری اور کلچر پر زیادہ زور دیا جاتا ہے اور بنگلہ دیش میں تھیالوجی پر زور ہے۔ کریکولم جو ڈیزائن کیا جاتا ہے اس میں یہ فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں اب تعلیم کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ایک تجربہ گزرا، جس کے بعد میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ۹۹ فیصد سے زیادہ انسان کسی نہ کسی قسم کے آمانی (فرضی) تمناؤں میں جی رہے ہیں۔ اس دنیا میں کامیاب انسان وہ ہے جو حقیقی یقین پر کھڑا ہو سکے مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج کی دنیا میں چند خوش نصیب روحوں کے سوا کسی کو بھی حقیقی یقین کا سرمایہ حاصل نہیں ۔
کچھ لوگ مادی سرو سامان کے بھروسہ پر جی رہے ہیں، حالانکہ مادی سرو سامان سے زیادہ بے بھروسہ چیز اور کوئی نہیں۔ کچھ لوگوں نے جھوٹی کہانیوں کی بنیاد پر ایک پر اسرار دنیا بنا رکھی ہے۔ اور اس کے ذریعہ ایک فرضی یقین حاصل کر کے اس میں جی رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے پاس تاریخ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues