Al-Risala · July 2002 · page 76

مشکل میں آسانی

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۷۶

قبضہ کرنا۔ جو لوگ جنگ کی نفسیات کا شکار ہوں وہ موجود پر قبضہ کو جیت اور موجود کے کھونے کو ہار سمجھتے ہیں۔ مگر صلح کی نفسیات والا انسان حال کے بجائے مستقبل کو دیکھتا ہے۔ اُس کی بصیرت اُس کو یہ بتاتی ہے کہ جو کچھ بروقت سامنے نظر آتا ہے، اُس سے بہت زیادہ وہ ہے جو اگرچہ بروقت نظر نہیں آتا مگر دانش مندانہ عمل کے ذریعہ اُس کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جنگ پسند آدمی کی نظر حال میں اٹکی ہوئی ہوتی ہے اور صلح پسند آدمی کی نظر مستقبل کی طرف متوجہ رہتی ہے۔ یہی مستقبل بینی تمام بڑی بڑی کامیابیوں کا واحد راز ہے۔

مشکل میں آسانی

قرآن کی سورہ نمبر ۹۴ میں فطرت کے ایک عالمگیر اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فإن مع العسر يسراً، إن مع العسر يسرا (الانشراح (۵-۶) یعنی بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے:

With every hardship there is ease, with every hardship there is ease. اس قرآنی آیت میں ایک ایسی سوچ کی تعلیم دی گئی ہے جس کو برتر اند از فکر (high thinking) کہا جا سکتا ہے۔ یعنی مشکلات سے اوپر اٹھ کر سوچنا۔ اس کا مقصد آدمی کے اندر ایک ایسے طرز فکر کو پیدا کرنا ہے جو دشواریوں میں گھر کر نہ رہ جائے بلکہ دشواریوں سے باہر آ کر سوچے ۔ جو آدمی اس برتر سوچ کا ثبوت دے وہ بہت جلد دریافت کرے گا کہ جہاں بظاہر صرف مسائل دکھائی دے رہے تھے وہاں ایسے مواقع بھی موجود تھے جن سے نہ صرف مسائل کو حل کیا جائے بلکہ اپنی نا کامی کو دوبارہ کامیابی میں بدل لیا جائے ۔ اس معاملہ کی بہت سی مثالیں ماضی اور حال میں موجود ہیں ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ تیرہویں صدی عیسوی میں وسط ایشیا کے وحشی قبائل جن کو منگول کہا جاتا ہے، اپنی کوہستانی بستیوں سے نکلے اور عباسی سلطنت کو ختم کر کے سمر قند سے حلب تک تمام مسلم شہروں میں چھا گئے۔ اس واقعہ کو مؤرخ ابن اثیر نے ایک ایسی آفت بتایا ہے جو تاریخ میں کبھی پیش نہیں آئی اور نہ شاید دوبارہ پیش آئے۔ گویا اپنے ظاہر کے اعتبار سے یہ ایک عظیم عُسْر (بہت بڑی مشکل) کا معاملہ تھا۔ مگر اس مشکل

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page