ذہنی تناؤ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۸۲
ہونا چاہئے ۔ اگر عملی اقدام نہیں کرنے سے نتیجہ مطلوب صورت میں نکلنے والا ہو تو عملی اقدام کیا جائے گا اور اگر یہ اندیشہ ہو کہ عملی اقدام سے حالات بگڑ جائیں گے اور ایک برائی کی جگہ دو برائی پیدا ہو جائے گی تو عملی اقدام نہ کیا جائے گا ۔
ذہنی تناؤ
جدید صنعتی دور نے انسانی زندگی کو بعض نئی قسم کی پیچیدگیوں میں مبتلا کر دیا ہے ۔ یہ چیزیں ابتدائی درجہ میں ہمیشہ موجود تھیں مگر موجودہ انتہائی درجہ میں اُن کا تجربہ انسان کو پہلی بار ہوا ہے ۔ انہی میں سے ایک نمایاں مسئلہ وہ ہے جس کو ذہنی تناؤ (mental tension) کہا جاتا ہے ۔ پیس آف مائنڈ کے ڈسٹرب ہونے کا سبب زیادہ تر وہ چیز ہوتی ہے جس کو ٹینشن یا اسٹریس کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی بھی شخص کے لئے ٹینشن اور اسٹریس سے بچنا ممکن نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس معاملہ میں کیا کیا جائے ۔ مگر میں کہوں گا کہ ٹینشن یا اسٹریس کوئی برائی (evil) نہیں۔ بلکہ وہ انسان کے لئے ایک نعمت (boon) کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیوں کہ اگر آدمی کے اندر منٹل ٹینشن نہ ہو تو اس کے اندر برین اسٹارمنگ نہیں ہوگی ۔ اور اگر برین اسٹارمنگ نہ ہو تو مائنڈ کے اندر وہ سرگرمیاں (activiteis) پیدا نہیں ہوں گی جو اعلیٰ انٹلکچول ڈیولپمنٹ کا واحد ذریعہ ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ٹینشن اور اسٹریس کا یہ کوئی صحت مند حل نہیں ہے کہ اس کو روکنے کی کوشش کی جائے یا اس کو مکمل طور پر دبا دینے کی کوشش کی جائے ۔ اس قسم کا حل ایک قسم کی ذہنی تنذیر (intellectual anaesthesia) ہے ۔ ایسی تنذیر ذہنی ترقی کے عمل کو روک کر انسان کو حیوانی سطح پر لے جانے کے ہم معنیٰ ہے ۔
So the solution lies in managing the crisis/ tension and not in suppressing it. معیار کا فرق ایک صاحب نے میری تحریروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کی کتابیں پڑھی ہیں ۔ مگر آپ کی تحریروں میں تضاد پایا جاتا ہے ۔ میں نے کہا کہ اس کی کوئی مثال دیجئے ۔ انہوں نے کہا
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues