ذہنی تناؤ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۸۳
کہ آپ نے ایک طرف سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ لوگ بلا شبہ مخلص تھے۔ مگر اسی کے ساتھ آپ یہ لکھتے ہیں کہ ۱۸۳۱ء میں انہوں نے پنجاب میں جو جہاد کیا وہ ایک غیر دانش مندانہ اقدام تھا۔ ایک طرف آپ شہید ین کی تعریف کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ اُن کی تنقید کرتے ہیں۔ کیا یہ تضاد نہیں۔
میں نے کہا کہ یہ تضاد کی بات نہیں ہے بلکہ یہ فکری معیار کے فرق کی بات ہے۔ آپ لوگوں کا فکری معیار یہ ہے کہ آپ جن افراد کو اکابر کا درجہ دے دیں، اُن کے بارے میں آپ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ غلطی نہیں کر سکتے، انہوں نے جو کچھ کہا یا کیا وہ سب درست تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے مزعومہ اکابر کے بارے میں اگر کوئی جزئی تنقید بھی کی جائے تو آپ لوگ بھڑک اُٹھتے ہیں۔ اپنے معیار کے مطابق، آپ اپنے اکابر کو صرف قابل تعریف سمجھتے ہیں، قابل تنقید نہیں۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا معیار وہ ہے جس کو علمی معیار کہا جاتا ہے۔ علمی معیار پُر اسرار شخصی تقدس پر قائم نہیں ہوتا، وہ معلوم اور ثابت شدہ حقائق پر مبنی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمی معیار میں تحلیل اور تجزیہ کا طریقہ رائج ہے۔ علمی معیار کے مطابق، داخلی نیت ایک الگ چیز ہے اور خارجی عمل اُس سے مختلف دوسری چیز۔ یہ علمی معیار شریعت کے عین مطابق ہے۔ اسی بنا پر حدیث میں آیا ہے کہ اگر آدمی کی نیت درست ہو تو اجتہادی خطا پر بھی اس کو ایک درجہ کا ثواب ملے گا (صحیح البخاری) میرا طریقہ یہی علمی معیار والا طریقہ ہے۔ میں شخصی تقدس کے نظریہ کو درست نہیں سمجھتا۔ میں شخصیتوں کا تجزیہ خالص حقائق کی روشنی میں کرتا ہوں۔ اس تجزیاتی طریق مطالعہ نے مجھے بتایا کہ سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید بلا شبہ مخلص لوگ تھے۔ مگر ۱۸۳۱ء میں انہوں نے پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف جو مسلح جہاد کیا، اس میں بیک وقت دو کمیاں شامل تھیں—— ناقص تیاری اور حالات سے بے خبری۔
سید اسماعیل شہید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب جہاد کا فیصلہ ہوا تو انہوں نے جہاد کی تیاری شروع کر دی۔ اُس وقت وہ دہلی میں تھے۔ گرمی کے زمانہ میں وہ دہلی کی جامع مسجد کے پتھر کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues